مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 101 of 239

مضامین ناصر — Page 101

1+1 ہے کہ وہ باوجود اپنی پوری محنت کے اس علم کو پوری طرح حاصل نہیں کر سکتا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ قائم کی ہوئی یو نیورسٹی کے علوم میں یہ نقص نہیں ہوگا۔یہاں یہ صورت نہیں ہوگی کہ آپ کا رجحان تو ڈاکٹری کی طرف ہو لیکن رستہ آپ کو فلسفہ کا دکھایا جائے۔بلکہ ان علوم میں طالب علم کے لئے بھلائی ہی بھلائی ہوگی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام رَبِّ عَلِمُنِي مَاهُوَ خَيْرٌ عِندَكَ یعنی اے اللہ! مجھے وہی کچھ دیکھا جو تیرے نزدیک بہتر ہے میں بتایا گیا ہے، خدا تعالیٰ ہر ایک شخص کی علمی استعداد اور اس کے دماغی رجحان کو جانتا ہے اس لئے یہاں ایسے علم کی تعلیم دی جائے گی جو طالب علم کے ذہن کے عین مطابق ہو اور اس میں اس کے لئے بھلائی ہی بھلائی ہوگی اس تعلیم میں یہ نقصان نہیں پایا جائے گا کہ وہ دماغ کے غیر مناسب ہونے کی وجہ سے کسی پر برا اثر ڈالتی ہو۔پھر تذکرہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مَدِينَةُ الْعِلْمِ کے دو علاقے یا دو محلے ہیں۔ایک علاقہ یا محلہ کا نام بیت الفکر ہے اور دوسرے کا نام بیت الذکر ہے۔ان دونوں کا لطیف امتزاج اس شہر کی آبادی کا موجب ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک الہام میں بتایا گیا ہے کہ ذُو عَقْلٍ مَتِيْنِ۔۔۔۔بَيْتُ الْفِكْرِ وَبَيْتُ الذِّكْرِ مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ( تو آج ہمارے نزدیک قوی العقل ہے۔کیا ہم نے تجھے ) بیت الفکر اور بیت الذكر ( عطا نہیں کئے ) اور جو شخص اس بیت الذکر میں باخلاص و بقصد تعبد وصحت وحسن ایمان داخل ہوگا وہ سوء خاتمہ سے امن میں آجائے گا“۔- گویا یہ یو نیورسٹی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اس زمانہ میں قائم کی گئی ہے اس کے دو حصے ہیں۔ایک بیت الفکر کہلاتا ہے۔یعنی یہ حصہ ان علوم پر مشتمل ہے جو کوئی اپنی عقل وتدبر، غور وفکر اور دنیوی جدو جہد سے نکالتا ہے اور اس کے ذریعہ حقائق الاشیاء معلوم کرتا ہے۔دوسرا حصہ بیت الذکر کہلاتا ہے اور یہ حصہ ان علوم پر مشتمل ہے جو ذاتی کاوش اور جد و جہد کے نتیجہ میں حاصل نہیں