مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 100 of 239

مضامین ناصر — Page 100

رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ ۸۵۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلده اصفحہ ۳۲۱) ۱۹۵۵ء میں آکر امریکہ کے ایک عظیم بیالوجسٹ Edmond W۔Sinnoat Dean of Yale's Graduate School نے روح اور مادہ کے تعلق کے بارے میں ریسرچ کی اور اس کے بعد ایک کتاب ”دی بیالوجی آف دی سپرٹ تحریر کی۔اس کتاب کا خلاصہ ویکلی ٹائم آف امریکہ مجریہ ۱ را کتوبر ۵۵ ء میں چھپا ہے۔اس خلاصہ کے دو اقتباسات قریباً ان دو اقتباسات کا ترجمہ ہیں۔مثلاً وہاں لکھا ہے اس وقت تک سائنس اس کی وضاحت نہیں کر سکی۔یعنی یہ ایسا راز ہے جس کے متعلق بیالوجسٹ مذکور نے تسلیم کیا ہے کہ اب تک سائنسدان اسے پانہیں سکے۔یادر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے کہ انسان اسے قیامت تک بھی نہیں پاسکے گا۔لیکن بہر حال سائنسدانوں نے اس حد تک تسلیم کر لیا ہے کہ سائنس اب تک اس راز کو پانہیں سکی۔آگے جا کر خلاصہ لکھنے والا بیان کرتا ہے۔تنظیم کا یہ اصول نہ صرف انسان کا ارتفاع کرتا ہے بلکہ اس کے مذہب کے لئے تین بنیادی چیزیں مہیا کرتا ہے یعنی بے ترتیب ہیولی میں ترتیب پیدا ہو جاتی ہے۔مادہ میں روح پیدا ہو جاتی ہے اور بے اثر اور غیر جانبدار عناصر میں شخصیت ابھر آتی ہے تنظیم کا یہ اصل جس کو کسی طور پر بھی الفاظ میں بعینہ نہیں ڈھالا جا سکتا میں بلا خوف تردیدا سے خدا تعالیٰ کی ایک صفت سمجھتا ہوں“۔گویا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ قائم کئے گئے دارالعلوم کے بیت الفکر کی ایک مثال دی ہے کہ آپ نے ۱۸۹۶ء میں یہ بتایا کہ روح جسم سے نکلتی ہے اس کے قریباً ۶۰ سال بعد سائنسدانوں نے جو معرکہ مارا اس کا نتیجہ وہی تھا جو آپ نے ۱۸۹۶ء میں بیان فرما دیا تھا۔پھر د نیوی اداروں میں یہ ہوتا ہے کہ کوئی علم ، طالب علم کے دماغ کے مطابق ہوتا ہے اور کوئی نہیں ہوتا اس لئے بعض اوقات طالب علم اس سے وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا جو اسے اٹھانا چاہیے۔مثلاً ایک لڑکے کارجحان ڈاکٹری کی طرف ہے لیکن باپ اسے انجینئر نگ کی تعلیم دلانا چاہتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا