مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 102 of 239

مضامین ناصر — Page 102

۱۰۲ ہوتے بلکہ دعا، انابت الی اللہ اور خشیت اللہ کے نتیجہ میں حاصل ہوتے ہیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کی روشنی میں اس مَدِينَةُ الْعِلْمِ میں تعلیم حاصل کر نیوالوں کو ان خرابیوں اور نقائص کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جو دنیوی یو نیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو پیش آتے ہیں بلکہ جو طالب علم اس یو نیورسٹی میں داخل ہوگا وہ بدامنی ، فساد، ظلم اور ہلاکت سے محفوظ رکھا جائے گا۔دنیوی سائنسدانوں نے ایٹم بم ایجاد کیا اور وہ اس کامیاب ایجاد پر نازاں تھے۔لیکن اب وہ خود اس ایجاد پر پشیمانی کا اظہار کر رہے ہیں۔لیکن اسی قسم کا خطرہ اس مَدِينَةُ العِلم میں نہیں۔کیونکہ عقل تو خود اندھی ہے جب تک اسے دین کی روشنی نہ دی جائے۔یہ انسان کو ہلاکت کے گڑھے میں گرا دیتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس مَدِينَةُ الْعِلْمِ میں بیت الفکر کے محلہ کے ساتھ ساتھ بیت الذکر کا محلہ بھی آباد کر دیا۔تا محض عقل کے استعمال کے نتیجہ میں جو خطرات انسان کو پیش آسکتے تھے وہ بیت الذکر یعنی دینی حصہ کے ساتھ دور ہو جائیں۔پھر جس طرح دنیوی یو نیورسٹیوں کے فارغ التحصیل طلباء کو جُبہ فضلیت پہنایا جاتا ہے اسی طرح اس مَدِينَةُ العِلم کے رہنے والوں کا بھی ایک جُبہ فضلیت ہے۔چنانچہ لکھا ہے: رویا میں دیکھا کہ میں ایک فراخ اور خوبصورت اور چمکدار جُبہ پہنے ہوئے چند ( تذکره صفحه ۶۴۹) آدمیوں کے ساتھ ایک طرف جا رہا ہوں۔اور وہ چغہ میرے پاؤں تک لٹک رہا ہے۔اور چمک کی شعاعیں اس سے نکل رہی ہیں“۔گویا د نیوی تعلیمی اداروں نے جو اپنا جبہ فضلیت تیار کیا ہے وہ تو کالے رنگ کا ہے لیکن اس مَدِينَةُ الْعِلْمِ کے رہنے والوں کو جو جُبہ فضلیت دیا جائے گاوہ نہایت خوبصورت اور چمکدار ہوگا۔اس سے نورانی شعاعیں نکلیں گی۔وہ نہ صرف پہننے والے کی شان کو ظاہر کرے گا بلکہ اپنی چمک اور نور سے دوسروں کی ہدایت کا بھی موجب ہوگا۔میں اس موقع پر جماعت کے احباب سے دو درخواستیں کرنا چاہتا ہوں میری ایک درخواست تو جماعت کے دینی اداروں کے متعلق ہے۔جماعت ان پر ہزاروں روپیہ سالانہ خرچ کر رہی ہے۔