مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 556 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 556

مضامین بشیر جلد چہارم 556 ہوتیں۔اور پھر بعض انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی زندگیوں کو جمیع مخلوقات عالم کی خدمت کے لئے وقف کر دیتے ہیں۔یہ سب مختلف طبقے انسانی زندگی کے ہیں۔اور جوں جوں انسان کی نظر بلند ہوتی جاتی ہے توں توں وہ اپنی زندگی کے مقصد اور غرض و غایت کو وسیع کرتا چلا جاتا ہے۔مگر اس سے بھی اوپر ایک اور درجہ ہے جو دراصل ملکی (یعنی فرشتوں کی ) زندگی کی غرض و غایت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور یہ درجہ خدا کی خاطر زندگی گزارنے کے ساتھ وابستہ ہے۔خدا چونکہ ایک غیر مادی ہستی ہے اور فرشتے بھی عالم ارواح کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔اس لئے حقیقتا زندگی کی یہ قسم فرشتوں کے ساتھ ہی خاص ہے۔گویا زندگی کے مدارج کا آغاز حیوانیت سے ہو کر بالآخر ملکیت پر جا کر ختم ہو جاتا ہے اور دونوں کے درمیان انسان ہے جو دراصل حیوان اور ملک کے بین بین ایک معتدل ہستی ہے۔ایک طرف انسان حیوانی جنس کے ساتھ ملتا ہے اور دوسری طرف اس کے ساتھ ملائک کا جوڑ ہے۔قدرت نے اسے ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنے دونوں ہمسائیوں کی زندگی کے دائرہ میں داخل ہوسکتا ہے۔کیونکہ اس کی فطرت میں حیوانی اور ملکی دونوں قسم کے خمیر ودیعت کئے گئے ہیں، بالمقابل حیوانوں فرشتوں کے جو اپنے اپنے حلقہ کے اندر بالکل محصور ہیں اور اسے باہر نکلنے کی طاقت نہیں رکھتے۔اسی لئے انسان کا مرتبہ اپنی فطری طاقتوں کی وجہ سے فرشتوں سے بالا سمجھا گیا ہے۔کیونکہ جہاں فرشتے اپنی ملکیت میں بطور ایک قیدی کے محصور ہیں وہاں جب انسان ملکیت کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے تو وہ خود اپنے ارادے سے ملکیت کے مقام کو اپنے لئے پسند کر کے اور اسے بہتر سمجھ کر اس میں داخل ہوتا ہے لیکن اگر ایک طرف اس کے لئے اوپر چڑھنے کا راستہ کھلا ہے تو دوسری طرف اس کے واسطے نیچے گرنے کا بھی دروازہ بند نہیں ہے۔اور اسی لئے جب انسان گرنے پر آتا ہے تو وہ حیوانی زندگی کے بھی ادنی ترین طبقہ تک جا پہنچتا ہے۔چنانچہ بہت سے ایسے انسان نظر آئیں گے جن کی زندگی کا مقصد سوائے اس کے اور کوئی نہیں ہوتا کہ کھائیں اور پیئیں اور اپنے نفس کی دوسری ضروریات کو پورا کریں اور جب موت آئے تو مر جائیں۔یہ ایک بدترین قسم کی حیوانی زندگی ہے۔مگر بہت سے انسان اس زندگی پر قانع نظر آتے ہیں۔اس قسم کے لوگوں کو کسی دوسرے انسان یا کسی دوسری مخلوق یا کسی دوسری ہستی کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں ہوتا سوائے اس حد تک کے تعلق کے کہ وہ انہیں اپنے نفس کی ضروریات اور خواہشات کے پورا کرنے میں ممد و معاون بنائیں۔ان کی تمام زندگی میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملے گی کہ انہوں نے کبھی کسی دوسرے شخص کے لئے کوئی قربانی کی ہو یا کسی دوسرے کے ساتھ خود اُس کے مفاد کی خاطر تعاون سے کام لیا ہو۔اور قسم دوم یا سوم کی زندگی گزار نے والے انسان تو بہت ہی کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔حتی کہ شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہو کہ دنیا میں 70 یا 80