مضامین بشیر (جلد 4) — Page 555
مضامین بشیر جلد چهارم 555 خدا کے لئے زندگی گزارتا ہے ضروری ہے کہ اس کی زندگی عملاً نہ صرف خدا کے لئے بلکہ کل مخلوقات عالم کے لئے اور بنی نوع آدم کے لئے اور ملک وقوم کے لئے اور خاندان واہل وعیال کے لئے اور بالآخر خود اس کی ذات کے لئے وقف ہو۔کیونکہ خدا کے لئے زندگی گزارنے کے مفہوم میں جملہ اقسام کی زندگی کی غرض و غایت شامل ہے۔مگر اس کے الٹ نہیں ہے یعنی قسم اول میں قسم دوم شامل نہیں اور قسم دوم میں قسم سوم شامل نہیں۔ایک دوسری جہت سے نقشہ بالا پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوگا کہ پہلی تین قسم کی زندگیاں دراصل حیوانی زندگی کی قسمیں ہیں کیونکہ ان میں حیوانی خاصہ کے مطابق یا تو صرف اپنی ذات کی ضروریات پوری کرنے تک زندگی کا مقصد محدود رہتا ہے اور یا اپنے قریب یا دور کے رشتہ داروں تک پہنچ کر زندگی کی غرض و غایت ختم ہو جاتی ہے۔پس ان تین قسموں میں سے خواہ انسان کسی قسم میں داخل ہو وہ حیوانی درجہ سے اوپر نہیں نکلتا۔دراصل حیوانوں میں بھی مدارج ہیں سب سے ادنی اقسم حیوانوں میں وہ ہے جن کی زندگی کی غرض و غایت عملاً صرف انہی کی ذات تک محدود ہوتی ہے کیونکہ ان کا کوئی گھر نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی اہل زندگی ہوتی ہے۔ان سے اوپر وہ حیوان ہیں جو اپنا ایک گھر بنا کر رہتے ہیں اور ان کی زندگی کی کشمکش خود ان کی ذات تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ ان کے اہل و عیال یعنی بیوی بچوں وغیرہ تک وسیع ہوتا ہے مگر اس حلقہ سے باہر ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔بیشتر حیوان اسی قسم میں داخل ہیں لیکن حیوانوں کی ایک قسم ایسی ہے جو اس سے بھی اوپر کا درجہ رکھتی ہے۔اس قسم کے حیوانات خاندانوں اور قبائل کی صورت میں اکھٹے رہتے ہیں اور بسا اوقات ایک دوسرے کی خاطر قربانی کرتے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا طریق اختیار کرتے ہیں۔یہ قسم حیوانوں کی سب سے ترقی یافتہ قسم ہے۔چنانچہ چیونٹی اور شہد کی مکھی وغیرہ اسی قسم میں داخل ہیں۔ان تین قسموں سے او پر حیوانی زندگی کا دائرہ ختم ہو کر انسانی زندگی کا دائرہ شروع ہوتا ہے اور گوشاذ کے طور پر بعض حیوانات میں قومی یا ملکی یا نوعی زندگی کی جھلک بھی پائی جاتی ہے مگر حقیقتا یہ دائرہ حیوانی زندگی سے بالا ہے لیکن جس طرح حیوانی زندگی کے مختلف درجے اور طبقے ہیں اس طرح انسانی زندگی کے بھی مختلف درجے ہیں۔یعنی کوئی انسان تو اپنی زندگی کی غرض و غایت کے لحاظ سے اپنے قومی دائرہ کے اندر محدود ہوتا ہے اور اس سے باہر اس کی ہمدردی اور اس کی قربانی اور اس کا تعاون نہیں جاتے۔اور کوئی انسان قوم کی قیود سے نکل کر ملکی حدود تک اپنی ہمدردی اور قربانی اور تعاون کو وسیع کر دیتا ہے اور کوئی اس سے بھی آگے نکل کر گل بنی نوع انسان کی خدمت کو اپنا نصب العین بناتا ہے۔اور قومی یا ملکی حدود اس کے راستے میں حائل نہیں