مضامین بشیر (جلد 4) — Page 557
مضامین بشیر جلد چهارم 557 فیصدی انہیں حیوانی زندگیوں میں اپنی عمر بسر کر کے دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں اور انہیں کبھی بھی یہ توفیق نہیں ملتی کہ حیوانی دائرہ سے خارج ہو کر انسانیت کے دائرہ میں قدم رکھیں۔جو شخص زندگی کی پہلی تین قسموں میں محصور رہتے ہوئے اپنے آپ کو انسان سمجھتا ہے وہ سخت غلطی خوردہ ہے۔وہ کسی صورت میں ایک حیوان سے افضل نہیں سوائے اس کے کہ دل و دماغ کی نسبت اپنی حیوانیت کو آرام میں رکھنے اور فربہ کرنے کی زیادہ تدبیریں سوچ سکتا ہے۔اور اس جہت سے اگر ایسے انسان کو حیوانوں سے بھی زیادہ گرا ہوا کہیں تو بے جانہ ہو گا۔الغرض انسانیت کا پہلا مرتبہ یہ ہے (اور اس کے نیچے صرف حیوانیت ہی حیوانیت ہے) کہ انسان کی زندگی صرف اس کے نفس کیلئے یا اس کے اہل وعیال کے لئے یا اس کے خاندان اور قبیلہ کیلئے نہ ہو بلکہ اس کی وسیع قوم کے لئے ہو اور وہ اپنی ذاتی ضروریات اور اہل وعیال کی ضروریات اور خاندانی ضروریات کو قومی ضروریات کے مقابل پر قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہو۔اور اس کی زندگی کے حرکت وسکون سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ وہ صرف اپنی قوم کی خاطر جی رہا ہے۔مگر یہ درجہ انسانی زندگی کے سب درجوں میں سے ادنیٰ اور ابتدائی درجہ ہے اور انسانیت کا سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو گل مخلوقات عالم کے فائدے کے لئے گزارے۔یعنی نہ صرف ہر دوسرا خاندان اور ہر دوسری قوم اور ہر دوسرا ملک اور ہر دوسرا انسان اس کی قربانی اور اس کے تعاون سے حصہ پارہا ہو بلکہ نوع انسانی کی حدود سے باہر نکل کر اس کی زندگی دوسری مخلوقات عالم کیلئے بھی برکت اور رحمت کا موجب ثابت ہو رہی ہو۔ایسا انسان ملکیت کے درجہ کو خارج از بحث رکھتے ہوئے اپنی انسانیت میں کامل سمجھا جائے گا اور جوں جوں اس کی قربانی اور اس کا اخلاص اور اس کی خدمت ترقی کرتے جائیں گے اس کا کمال زیادہ روشن ہوتا چلا جائے گا۔لیکن جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے انسانی فطرت میں یہ طاقت ودیعت کی گئی ہے کہ وہ انسانیت کی مادی حدود سے نکل کر ملکیت کے دائرہ میں داخل ہو جائے۔اس لئے وہ انسان جس کی نظر مخلوقات عالم تک وسیع ہو کر رک جاتی ہے کبھی بھی کامل انسان نہیں سمجھا جا سکتا۔بلکہ کامل انسان وہ ہوگا جس کی نظر مخلوقات کے مقام کو سمجھتے ہوئے اپنے خالق کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائے اور چونکہ خالق کی خدمت میں مخلوق کی خدمت طبعا شامل ہے اس لئے ایسے انسان کی زندگی خالق ومخلوق دونوں کے لئے وقف ہوگی اور یہی وہ اعلیٰ اور ارفع مقام ہے جس پر انسانی زندگی کا سلوک ختم ہوتا ہے۔ایسا شخص اپنے نفس کو بھی زندہ رکھتا ہے اور اپنے اہل وعیال کو بھی پالتا ہے اور اپنے خاندان کی پرورش میں بھی حصہ لیتا ہے مگر چونکہ وہ سب کچھ خدا کی خاطر کرتا ہے اس لئے اس کی زندگی کا یہ حصہ بھی دراصل حیوانی نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ حقیقتا ملکیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔