مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 24 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 24

مضامین بشیر جلد چهارم 24 کے وعدوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنے مضمون میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اتنا ز ہرا گلا اور ایسا گند اُچھالا کہ خدا کی پناہ۔جب اس جلسہ کی اطلاع حضرت مسیح موعود کو پہنچی اور جلسہ میں شرکت کرنے والے احباب قادیان واپس آئے تو آپ حضرت مولوی نورالدین صاحب اور دوسرے احمدیوں پر سخت ناراض ہوئے اور بار بار جوش کے ساتھ فرمایا کہ جس مجلس میں ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا بھلا کہا گیا اور گالیاں دی گئیں تم اس مجلس میں کیوں بیٹھے رہے؟ اور کیوں نہ فوراً اٹھ کر باہر چلے آئے ؟ تمہاری غیرت نے کس طرح برداشت کیا کہ تمہارے آقا کو گالیاں دی گئیں اور تم خاموش بیٹھے سنتے رہے؟ اور پھر آپ نے بڑے جوش کے ساتھ یہ قرآنی آیت پڑھی کہ : إِذَا سَمِعْتُمُ أَيتِ اللهِ يُكْفَرُبهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْره (النساء: 141) یعنی اے مومنو! جب تم سنو کے خدا کی آیات کا دل آزار رنگ میں کفر کیا جاتا ہے اور ان پر جنسی اُڑائی جاتی ہے تو تم ایسی مجلس سے فوراً اُٹھ جایا کروتا وقتیکہ یہ لوگ کسی مہذبانہ انداز گفتگو کو اختیار کریں۔اس مجلس میں حضرت مولوی نورالدین صاحب ( خلیفہ اول ) بھی موجود تھے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ پر ندامت کے ساتھ سر نیچے ڈالے بیٹھے رہے۔بلکہ حضرت مسیح موعود کے اس غیورانہ کلام سے ساری مجلس ہی شرم اور ندامت سے کئی جارہی تھی۔(سیرۃ المہدی حصہ اول) خان بہا در مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کو جماعت کے سب یا کم از کم اکثر دوست جانتے ہیں۔وہ ہماری بڑی والدہ صاحبہ کے بطن سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب سے بڑے لڑکے تھے جوڈ پٹی کمشنر کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے اور دنیا کا بڑا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی بھر حضور کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے بلکہ حضور سے علیحدہ ہی رہے اور حضور کے خاندانی مخالفوں سے اپنا تعلق قائم رکھا۔گو بعد میں انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے زمانہ میں بیعت کر لی اور اس طرح آپ نے ہم تین بھائیوں کو چار کر دیا۔بہر حال خان بہادرمرزا سلطان احمد صاحب کے غیر احمدی ہونے کے زمانہ کی بات ہے کہ ایک دفعہ مجھے خیال آیا کہ ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی زمانہ کے اخلاق و عادات کے متعلق کچھ دریافت کروں۔چنانچہ میرے پوچھنے پر انہوں نے فرمایا کہ: ’ایک بات میں نے والد صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود ) میں خاص طور پر دیکھی ہے۔وہ یہ کہ