مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 25 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 25

مضامین بشیر جلد چهارم 25 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف والد صاحب ذراسی بات بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔اگر کوئی شخص آنحضرت کی شان کے خلاف ذراسی بات بھی کہتا تھا تو والد صاحب کا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا اور غصے سے آنکھیں متغیر ہونے لگتی تھیں اور فوراً ایسی مجلس سے اُٹھ کر چلے جاتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تو والد صاحب کو عشق تھا۔ایسا عشق میں نے کبھی کسی میں نہیں دیکھا۔اور مرزا سلطان احمد صاحب نے اس بات کو بار بار دہرایا۔“ (سیرة المهدی حصہ اول) یہ اس شخص کی شہادت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شامل نہیں تھا۔جس نے حضرت مسیح موعود کو اپنی جوانی سے لے کر حضور کی وفات تک دیکھا۔جس نے اتنی سال کی عمر میں وفات پائی۔جس کے تعلقات کا دائرہ اپنی معزز ملازمت اور اپنے ادبی کارناموں کی وجہ سے نہایت وسیع تھا اور جو اپنے سوشل تعلقات میں بالکل صحیح طور پر کہ سکتا تھا کہ: جفت خوش حالاں و بد حالاں شدم مگر حضرت مسیح موعود کی زندگی میں غیر احمدی ہونے کے باوجود اس کے عمر بھر کے مشاہدہ کا نچوڑ اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والد صاحب کو عشق تھا۔ایسا عشق میں نے کسی شخص میں نہیں دیکھا۔“ ایک دفعہ بالکل گھریلو ماحول کی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود کی طبیعت کچھ نا ساز تھی اور آپ گھر میں چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے اور حضرت اماں جان نوراللہ مرقدها اور ہمارے نانا جان یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم بھی پاس بیٹھے تھے کہ حج کا ذکر شروع ہو گیا۔حضرت نانا جان نے کوئی ایسی بات کہی کہ اب تو حج کے لئے سفر اور رستے وغیرہ کی سہولت پیدا ہو رہی ہے۔حج کو چلنا چاہئے۔اس وقت زیارتِ حرمین شریفین کے تصور میں حضرت مسیح موعود کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں اور آپ اپنے ہاتھ کی انگلی سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔حضرت نانا جان کی بات سن کر فرمایا: یہ تو ٹھیک ہے اور ہماری بھی دلی خواہش ہے۔مگر میں سوچا کرتا ہوں کہ کیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار کو دیکھ بھی سکوں گا ؟“ ( روایات نواب مبار که بیگم صاحبه ) یہ ایک خالصتاً گھریلو ماحول کی بظاہر چھوٹی سی بات ہے۔لیکن اگر غور کیا جائے تو اس میں اس اتھاہ