مضامین بشیر (جلد 4) — Page 23
مضامین بشیر جلد چهارم 23 میں لئے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔انہی پنڈت لیکھرام کا یہ واقعہ ہے کہ ایک دفعہ جب مسیح موعود علیہ السلام کسی سفر میں ایک سٹیشن پر گاڑی کا انتظار کر رہے تھے کہ پنڈت لیکھرام کا بھی ادھر سے گزر ہو گیا۔اور یہ معلوم کر کے کہ حضرت مسیح موعود اس جگہ تشریف لائے ہوئے ہیں پنڈت جی دنیا داروں کے رنگ میں اپنے دل کے اندر آگ کا شعلہ دبائے ہوئے آپ کے سامنے آئے۔آپ اس وقت نماز کی تیاری میں وضو فرما رہے تھے۔پنڈت لیکھرام نے آپ کے سامنے آ کر ہندوانہ طریق پر سلام کیا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا گویا کہ دیکھا ہی نہیں۔اس پر پنڈت جی نے دوسرے رُخ سے ہو کر پھر دوسری دفعہ سلام کیا اور حضرت مسیح موعود پھر خاموش رہے۔جب پنڈت جی مایوس ہو کر لوٹ گئے تو کسی نے یہ خیال کر کے کہ شاید حضرت مسیح موعود نے پنڈت لیکھرام کا سلام نہیں سنا ہوگا حضور سے عرض کیا کہ پنڈت لیکھر ام آئے تھے اور سلام کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی غیرت کے ساتھ فرمایا کہ: ”ہمارے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا ہے!!! ( سيرة المهدى وسيرة مسیح موعود مصنفہ عرفانی صاحب) یہ اس شخص کا کلام ہے جو ہر طبقہ کے لوگوں کے لئے مجسم رحمت تھا۔ہندوؤں میں اس کے روز کے ملنے والے دوست تھے اور سکھوں میں اس کے دوست تھے اور عیسائیوں میں اس کے دوست تھے اور اس نے ہر قوم کے ساتھ انتہائی شفقت اور انتہائی ہمدردی کا سلوک کیا۔مگر جب اس کے آقا اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غیرت کا سوال آیا تو اس سے بڑھ کر یگی تلوار دنیا میں کوئی نہیں تھی۔اسی قسم کا ایک واقعہ لاہور کے جلسہ وچھو والی“ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔آریہ صاحبان نے لاہور میں ایک جلسہ منعقد کیا اور اس میں شرکت کرنے کے لئے ہر مذہب وملت کو دعوت دی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے باصرار درخواست کی کہ آپ اس بین الاقوامی جلسہ کے لئے کوئی مضمون تحریر فرمائیں۔اور وعدہ کیا کہ جلسہ میں کوئی بات خلاف تہذیب اور کسی مذہب کی دل آزاری کا رنگ رکھنے والی نہیں ہوگی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک ممتاز حواری حضرت مولوی نورالدین صاحب کو جو بعد میں جماعت احمدیہ کے خلیفہ اول مقرر ہوئے بہت سے احمدیوں کے ساتھ لاہور روانہ کیا۔اور ان کے ہاتھ ایک مضمون لکھ کر بھیجا جس میں اسلام کے محاسن بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اور بڑے دلکش رنگ میں بیان کئے گئے تھے۔مگر جب آریہ صاحبان کی طرف سے مضمون پڑھنے والے کی باری آئی تو اس بندہ خدا نے اپنی قوم