مضامین بشیر (جلد 4) — Page 18
مضامین بشیر جلد چهارم با من از اند آستانت در مرا از بند گانت یافتی قبلہ من یافتی دیده راز را پوشیده دل من آں محبت کر جہاں آں روئے محبت کار گن کے افشاء آں اسرار گن اے کہ آئی سوئے ہر جوینده واقفی از سوز ہر سوزنده زاں تعلق ہا با که با تو داشتم زاں محبت ہا کر در دل کاشتم خود بروں آ پیئے ابراء من اے تو کہف و ملجاء و ماوائے من آتش کاندر دلم افروختی 18 وز دم آن غیر خود را سوختی ہم ازاں آتش رُخ من بر فروز ویں شب تارم مبدل گن بروز (حقیقة المهدی روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 434) یعنی اے میرے قادر و قدیر خدا! اے وہ جو زمین و آسمان کا واحد خالق و مالک ہے۔اے وہ جو اپنے بندوں پر بے انتہا رحم کرنے والا اور ان کی ہدایت کا بے حد آرزومند ہے۔ہاں اے میرے آسمانی آقا! جو لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں پر نظر رکھتا ہے جس پر زمین و آسمان کی کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے۔اگر تو دیکھتا ہے کہ میرا اندرونہ فسق و فساد اور فتنہ وشر کی نجاست سے بھرا ہوا ہے۔اگر تو مجھے ایک بدفطرت اور ایک ناپاک سیرت انسان خیال کرتا ہے تو میں تجھے تیرے جبروت کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ مجھے بد کار کو پارہ پارہ کر کے رکھ دے اور میرے مخالفوں کے دلوں کو ٹھنڈا کر۔تو میرے درودیوار پر اپنے عذاب کی آگ برسا اور میرا دشمن بن کر میرے کاموں کو تباہ و برباد کر دے۔لیکن اگر تو جانتا ہے کہ میں تیرا اور صرف تیرا ہی بندہ ہوں۔اور اگر تو