مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 17 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 17

مضامین بشیر جلد چهارم 17 محبت الہی کے متعلق حضرت مسیح موعود ایک جگہ ایسے رنگ میں گفتگو فرماتے ہیں کہ گویا آپ اس محبت کی شراب طہور میں مخمور ہو کر اپنے خدا سے ہمکلام ہو رہے ہیں۔فرماتے ہیں: میں ان نشانوں کو شمار نہیں کر سکتا جو مجھے معلوم ہیں ( مگر دنیا انہیں نہیں دیکھتی لیکن اے میرے خدا) میں تجھے پہچانتا ہوں کہ تو ہی میرا خدا ہے۔اس لئے میری روح تیرے نام سے ایسی اُچھلتی ہے جیسا کہ ایک شیر خوار بچہ ماں کے دیکھنے سے لیکن اکثر لوگوں نے مجھے نہیں پہچانا اور نہ قبول کیا۔“ اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کو گواہ رکھ کر فرماتے ہیں: ضمیمه تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 511) ”دیکھ! میری روح نہایت تو کل کے ساتھ تیری طرف ایسی پرواز کر رہی ہے جیسا کہ پرندہ اپنے آشیانہ کی طرف آتا ہے۔سو میں تیری قدرت کے نشان کا خواہش مند ہوں۔لیکن نہ اپنے لئے اور نہ اپنی عزت کے لئے بلکہ اس کے لئے کہ لوگ تجھے پہچانیں اور تیری پاک راہوں کو اختیار کریں۔“ (ضمیمه تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 511) پھر اسی محبت الہی کے جوش میں اپنے اور اپنے مخالفوں کے درمیان حق وانصاف کا فیصلہ چاہتے ہوئے اپنی جان اور اپنے مال و متاع اور اپنی عزت و آبرو اور اپنے جمیع کاروبار کی بازی لگاتے ہوئے خدا کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں اور کس جذ بہ اور ولولہ سے فرماتے ہیں: اے قدیر و خالق و ارض و سما رہنما اے رحیم اے ا و مهربان و که میداری تو بر دلها نظر که از تو نیست چیزے مستتر گر تو می بینی مرا پرفسق و شتر گر تو دیدستی که هستم بد گہر پاره پاره کن من بدکار را کن شاد کن این زمرہ اغیار را آتش افشاں پر در و دیوار من باش تبه گن کارمن