مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 19 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 19

مضامین بشیر جلد چهارم 19 دیکھ رہا ہے کہ صرف تیرا ہی مبارک آستانہ میری پیشانی کی سجدہ گاہ ہے۔اگر تو میرے دل میں اپنی بے پناہ محبت پاتا ہے جس کا راز اس وقت تک دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہے۔تو اے میرے پیارے آقا! تو مجھے اپنی محبت کا کرشمہ دکھا اور میرے عشق کے پوشیدہ راز کو لوگوں پر ظاہر فرمادے۔ہاں اے وہ جو کہ ہر متلاشی کی طرف خود چل کے آتا ہے اور ہر اس شخص کے دل کی آگ سے واقف ہے جو تیری محبت میں جل رہا ہے۔میں تجھے اپنی اس محبت کے پودے کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جو میں نے تیرے دل کی گہرائیوں میں لگا رکھا ہے کہ تو میری بریت کے لئے باہر نکل آ۔ہاں ہاں اے وہ جو میری پناہ اور میرا سہارا اور میری حفاظت کا قلعہ ہے۔وہ محبت کی آگ جو تُو نے اپنے ہاتھ سے میرے دل میں روشن کی ہے اور جس کی وجہ سے میرے دل و دماغ میں تیرے سوا ہر دوسرا خیال جل کر راکھ ہو چکا ہے۔تو اب اسی آگ کے ذریعہ میرے پوشیدہ چہرے کو دنیا پر ظاہر کر دے اور میری تاریک رات کو دن کی روشنی میں بدل دے۔اس عجیب و غریب نظم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ جس بے پناہ محبت کا اظہار کیا ہے وہ اتنی ظاہر وعیاں ہے کہ اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔ان اشعار کے الفاظ اس اسفنج کے ٹکڑے کا رنگ رکھتے ہیں جس کے رگ وریشہ میں مصفی پانی کے قطرات اس طرح بھرے ہوئے ہوں کہ اسفنج کو پانی سے اور پانی کو اسفنج سے ممتاز کرنا ناممکن ہو جائے۔مگر میں ان اشعار کی تحدی اور خدائی نصرت پر کامل بھروسہ کے پہلو کے متعلق دوستوں کو ضرور تھوڑی سی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔یہ اشعار جیسا کہ ہماری جماعت کے اکثر واقف کار اصحاب جانتے ہیں 1899 ء میں کہے گئے تھے جس پر اس وقت ساٹھ سال کا عرصہ گزرا ہے۔جس کا زمانہ پانے والے اس وقت ہزاروں لاکھوں لوگ موجود ہوں گے اور یہ عرصہ قوموں کی زندگی میں گویا کچھ بھی نہیں۔مگر اس قلیل عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے ان غیرت دلانے والے متحد یا نہ الفاظ کے نتیجہ میں جس غیر معمولی رنگ میں ہزاروں مخالفتوں کے باوجود آپ کے سلسلہ کو ترقی دی اور اس کی نصرت فرمائی اور اسے پھیلایا اور اسے اوپر اٹھایا ہے۔اس کا چھوٹا سا نظارہ ہمارے سالانہ جلسوں میں نظر آتا ہے۔جبکہ دو تین سو کی تعداد سے ترقی کر کے جماعت احمدیہ کے نمائندے (نہ کہ کل افراد ) جو آج کل جلسہ سالانہ کے موقع پر مرکز سلسلہ میں جمع ہوتے ہیں خدا کے فضل سے قریب ستر اسی ہزار کی تعداد کو پہنچ جاتے ہیں۔اور احمدیت کے ذریعہ اسلام کا جھنڈا دنیا کے اکثر آزاد ملکوں میں بلند و بالا ہوکر اہرارہا ہے۔اور جو لوگ اس سے پہلے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ گالیاں دیتے تھے وہ آج مسیح محمدی کے خدام کے ذریعہ حلقہ بگوش اسلام ہو کر آپ پر درود و سلام بھیج رہے ہیں۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا