مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 250 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 250

مضامین بشیر جلد چهارم 250 باوجود حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی ہر رنگ میں نصرت فرمائی اور ان کے ہاتھ سے جماعت کو اور اسلام کو غیر معمولی ترقی دی اور خدا اس سارے عرصہ میں ان کی غیر معمولی طور پر مسلسل نصرت فرماتا گیا اور اب پندرہ سال گزرنے کے بعد اسے اچانک اپنا اصول یاد آیا کہ میں تو بھول کر ایک مفتری“ کی تائید کرتا آیا ہوں۔الْعَجَبُ ثُمَّ الْعَجَبُ !!! بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی قیادت کے یہ پندرہ سال جو مصلح موعود کے دعوے کے بعد گزرے ہیں یہ خاص طور پر خدا کی غیر معمولی نصرت اور تائیدات سے معمور نظر آتے ہیں اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خلافت کا کوئی زمانہ اپنے کارناموں کی شان و شوکت کے لحاظ سے ان پندرہ سال کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔قادیان سے ہجرت تو حضرت مسیح موعود کے الہام کے مطابق مقدر تھی مگر حضرت خلیفہ المسیح کی قیادت میں ہزاروں لاکھوں کی جماعت ہجرت کے قیامت خیز فسادوں میں قریباً قریباً بالکل امن اور خیریت کے ساتھ پاکستان پہنچ گئی۔قادیان کی بستی کا مقدس ترین حصہ باوجود ہجرت کے طوفانی حالات کے جماعت کے قبضہ میں رہا اور اب تک ہے۔بے شمار مشکلات کے باوجود جماعت کا نیا مرکز ربوہ پوری آب و تاب کے ساتھ مع اپنے مختلف اداروں کے آباد ہوا۔زنانہ ڈگری کالج کی بنیا درکھی گئی۔کئی نے علمی رسالے جاری ہوئے۔پھر اس عرصہ میں جماعت کے تبلیغی مشن بیرونی ممالک میں اس کثرت کے ساتھ کھلے کہ گویا دنیا بھر میں حق کی تبلیغ کا ایک مقدس جال بچھ گیا۔1953ء کی خطرناک آگ میں جماعت اس طرح محفوظ رہی کہ یوں نظر آتا تھا کہ فرشتوں نے ان کے لئے اپنی رحمت کے پر پھیلا رکھے ہیں اور پھر اسی زمانہ میں تفسیر کبیر اور تفسیر صغیر جیسی عظیم المرتبت کتابیں بھی شائع ہوئیں وغیرہ وغیرہ۔یہ سب کچھ ان پندرہ سالوں میں ہوا جسے میاں سبط نور صاحب نعوذ باللہ افترا کا زمانہ بتا رہے ہیں۔کیا اس سے بڑھ کر کوئی ظلم ممکن ہے؟ حضرت مسیح ناصری کا یہ قول کیسا سچا ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے مگر جو شخص پھل کو دیکھ کر اور چکھ کر پھر بھی درخت کو پہنچاننے سے انکار کرے اس کے متعلق ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ یہ خیال کرنا کہ حضرت مسیح موعود نے افتراء کرنے والوں کے لئے تئیس (23) سال کی میعاد لکھی ہے اس لئے یہ جواب درست نہیں ایک جہالت کا اعتراض ہوگا کیونکہ حضرت مسیح موعود نے یہ میعاد مخصوص طور پر اپنے زمانہ الہام اور ماموریت کے مقابل پر بیان فرمائی ہے اور حضور کی غرض یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تو تئیس سال گزرے مگر مجھے جو آپ کا خادم ہوں الہام کا دعویٰ کرنے پر اس سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے ورنہ ہر تاریخ دان جانتا ہے کہ لَوْ تَقَول والی آیت بالکل آخر میں نازل نہیں ہوئی تھی بلکہ درمیانی زمانہ