مضامین بشیر (جلد 4) — Page 251
مضامین بشیر جلد چهارم 251 میں اتری تھی اس لئے اصل زمانہ گنتی کے لحاظ سے تئیس سال نہیں بلکہ اس سے کافی کم بنتا ہے۔علاوہ ازیں زمانہ کی تعیین سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ شروع میں تو خدا ایک مفتری کی تائید اور نصرت کرتا چلا جائے اور مخالفوں کے مقابلہ پر اس کو فتح وظفر سے نوازتار ہے اور پھر آخر میں آکر اسے اچانک پکڑ لے۔یہ تو نعوذ باللہ خدا کی طرف سے دھوکا ہوگا اور دلیل ایک کھیل بن جائے گی بلکہ میعاد سے صرف یہ مراد ہے کہ کچھ وقت تک ڈھیل اور مہلت دینے کے بعد (اور اس مہلت کے عرصہ میں بہر حال خدا کی طرف سے کسی قسم کی تائید نہیں ہوتی بلکہ صرف خاموش مہلت ملتی ہے ) خدا تعالیٰ مفتری کو پکڑتا اور تباہ کر دیتا ہے۔افسوس ہے کہ سبط نور صاحب اس لطیف فرق کو سمجھنے سے بھی قاصر رہے ہیں۔باقی رہا بیماری کا سوال سو وہ بشری لوازمات کے ماتحت ایک طبعی امر ہے۔جو شخص دنیا میں پیدا ہوتا ہے وہ بیمار بھی ہوتا ہے اور اجل پوری ہونے پر مرتا بھی ہے اس پر طعن کرتے ہوئے سبط نور صاحب کو خدا سے ڈرنا چاہئے کیونکہ جب خدا تعالیٰ نے اپنی غیر معمولی تائیدات اور نفرتوں سے مصلح موعود کے دعویٰ کی تصدیق فرما دی تو اب سبط نور صاحب سے ان تائیدات الہی سے کھیلنا اچھا نہیں۔خدا نے اپنے فعل سے ان پندرہ سالوں میں ایسی غیر معمولی تائیدات دکھائی ہیں اور ایسی نصرتوں کا مظاہرہ فرمایا ہے کہ ان کی نظیر ملنی مشکل ہے۔حق یہ ہے کہ ان پندرہ سالوں کا ایک ایک برس اور ایک ایک ماہ خدائی نصرت کا زبردست گواہ ہے اور خدائی شہادت اعتراض کرنے والوں کے منہ پر کلنک کا ٹیکا لگا چکی ہے۔اب بیہودہ اعتراضات کر کر کے اور گند اُچھال اُچھال کر اپنی شرم کو چھپانے کی کوشش کرنا اپنی سیاہی کو بڑھانے کے سوا کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا۔میں سبط نور صاحب اور ان کے ساتھیوں کو یہ بات بھی بتانا چاہتا ہوں کہ گواس وقت ٹانگوں کی کمزوری کی وجہ سے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی چلنے پھرنے سے وقتی طور پر معذور ہیں ( اور ہمارا آسمانی آقا شفا دینے پر قادر ہے ) مگر خدا کے فضل سے حضور جماعت کے کاموں سے کٹے ہوئے نہیں بلکہ حسب ضرورت رپورٹیں سنتے ہیں اور ہدایات دیتے ہیں اور جن کا غذات پر حضور کے دستخط ضروری ہوتے ہیں ان پر اپنے ہاتھ سے دستخط فرماتے ہیں اور باہر سے آئے ہوئے مہمانوں سے ملاقات بھی کرتے ہیں (چنانچہ ابھی کل ہی افریقہ کے ایک غیر احمدی مہمان سے ملاقات فرمائی اور بیرونی تبلیغ کے کام میں خصوصیت سے دلچسپی لیتے ہیں۔چنانچہ جب میں نخلہ (جابہ ) میں آیا تو مجھ سے خاص طور پر عزیز میاں مبارک احمد سلمہ کے تبلیغی دورہ یورپ اور امریکہ کے متعلق دریافت فرمایا اور بڑی دلچسپی لیتے رہے۔بالآخر میں اپنے دوستوں سے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ مخالفوں کے طعن اور استہزاء سے ڈرنا نہیں