مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 249 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 249

مضامین بشیر جلد چهارم 249 عنوان کے ماتحت کسی برقعہ پوش کے قلم سے جس نے اپنا نام سبطِ نور ظاہر کیا ہے شائع ہوا ہے اور اتفاقاً آج ہی میری نظر سے گزرا ہے۔سبط نور کے الفاظ سے شبہ ہوتا ہے بلکہ ایک حد تک یقین ہوتا ہے کہ یہ دل آزار مضمون حضرت خلیفتہ امیج اول رضی اللہ عنہ کے کسی بچے کی قلم سے ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ہمارے محبوب امام اور خلیفہ اول تھے۔ایسی بزرگ ہستی کی اولاد کی طرف سے ایسا گندا اور غلط استدلال سے معمور مضمون شائع ہونا بڑے صدمہ کا موجب ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے دل میں جو احترام حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کا تھا اور جس محبت اور ادب کی نظر سے آپ حضرت خلیفہ ثانی کو دیکھتے تھے بلکہ انہیں پیشگوئی مصلح موعود کا مصداق قرار دیتے تھے وہ سبط نور صاحب کے ماموں جان حضرت پیر منظور محمد صاحب مرحوم کے رسالہ مصلح موعودؓ سے ظاہر ہے اور جماعت کا بچہ بچہ اسے جانتا ہے بلکہ اگر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی اولاد کو قسم دے کر پوچھا جائے تو وہ یقیناً اس حقیقت سے انکار کرنے کی جرات نہیں کر سکتی تو پھر اپنے والد محترم کی اتنی تعریف و توصیف اور والد کے محبوب پر اس طرح گندا چھالنے کے کیا معنی؟ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ سبط نور سالہاسال تک حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ الہ کی بیعت میں رہ چکے ہیں اور اگر میں بھولتا نہیں تو حضور کی تائید میں بعض مضامین بھی لکھ چکے ہیں اور حضور کو ایک پاکباز انسان اور اپنا خلیفہ اور امام تسلیم کرتے رہے ہیں تو پھر کیا محض اس وجہ سے کہ حضرت خلیفتہ اسی ایدہ اللہ نے امام جماعت ہونے کی حیثیت میں ان کی بعض غلطیوں کی بناء پر ان کے خلاف ایکشن لیا ساری گزشتہ باتوں کو بھلا کر حضور کے خلاف زبان طعن دراز کرنا جائز اور شرافت اور نجابت میں داخل سمجھا جا سکتا ہے؟ میرے اس سوال کے جواب میں سبط نور اپنے ضمیر اور اپنے دل سے فتوی پو چھیں اور آتی دور نہ جائیں کہ واپس آنے کا رستہ بالکل بند ہو جائے۔پھر سبط نورصاحب حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی موجودہ بیماری کو اپنے ناپاک طعن و تشنیع کا نشانہ بنا کر اعتراض کرتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے نعوذ باللہ مصلح موعود ہونے کا جھوٹا دعوی کیا تھا او خدا پر افترا باندھا تھا اس لئے خدا نے ان کو بہار اور لاچار اور گویا پانچ کرکے بستر میں لٹا دیا۔میں نہیں مجھ سکتا کہ سبط نور کے قلم سے ایسا کمزور اور بودا اعتراض کس طرح نکلا ہے؟ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مصلح موعود والی رویا 1944ء میں دیکھی تھی جس پر اب سترہ سال کا طویل عرصہ گزرتا ہے اور اگر موجودہ بیماری کے دو سال اس میں سے نکال بھی دیئے جائیں تو پھر بھی یہ عرصہ پندرہ سال کا لمبا زمانہ بنتا ہے۔کیا سبطِ نور صاحب کو اتنی موٹی سمجھ بھی حاصل نہیں کہ ان پندرہ سالوں میں تو خدا نے سبط نور کے بیان کردہ زمانہ افترا کے