مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 552 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 552

مضامین بشیر جلد چهارم 552 کے اندر اندر ختم کیا جاسکتا ہے۔(23) جوابات لکھتے ہوئے پرچے کی ظاہری صفائی کا بہت خیال رکھنا چاہئے۔کیونکہ متحن کے دل پر اس کا بہت اثر پڑتا ہے۔خط صاف ہو اور آسانی کے ساتھ پڑھا جائے۔سطر میں سیدھی ہوں۔سطروں کے درمیان فاصلہ کم نہ ہو۔پرچہ پر کسی قسم کا داغ اور دھبہ نہ پڑنے دیا جائے اور اگر کوئی حصہ کاٹا جائے تو وہ ایسے طور پر کاٹا جائے کہ پرچہ بدنما اور ناصاف نہ نظر آوے۔پرچہ کی ظاہری خوبصورتی نہایت ہی ضروری اور اہم ہے جس کی طرف سے کبھی غفلت نہیں ہونی چاہئے۔پرچہ کی خوبصورتی کو اس طرح بھی بڑھایا جاسکتا ہے کہ سوالوں کے نمبروں کے اوپر حاشیہ میں سرخ پنسل سے خط کھینچ دیا جائے اور اسی طرح جوابوں کے نمبروں پر اور دوسری جگہوں پر سرخ پنسل کا خط کھینچ دیا جائے۔اس طرح پر چہ میں ایک قسم کی رنگینی اور خوبصورتی پیدا ہو جاتی ہے۔الغرض خط کی عمدگی اور پرچے کی ظاہری صفائی اور خوبصورتی بڑی ضروری چیزیں ہیں اور ان کا پورا پورا خیال رکھنا چاہئے۔(24) ہر سوال کا جواب ختم کرنے کے بعد اسے احتیاط کے ساتھ دہرا لینا چاہئے تا کہ کسی قسم کی غلطی نہ رہ جائے اور پھر آخر میں ایک یا دو دفعہ سارے پرچے کی مجموعی نظر ثانی بھی کر لینی چاہئے اور یہ نظر ثانی پوری احتیاط سے ہونی چاہئے۔تا کہ اگر کوئی غلطی یا نقص رہ گیا ہو تو اسے درست کیا جا سکے۔نظر ثانی نہایت ضروری ہے حتی کہ خواہ اس کی وجہ سے کوئی چھوٹا موٹا سوال ترک کرنا پڑے مگر نظر ثانی بہر حال ہونی چاہئے۔گھڑی دیکھ کر وقت کے آخر میں نظر ثانی کے لئے مناسب وقت الگ کر دینا چاہے۔جو طالب علم نظر ثانی نہیں کرتے وہ سخت نقصان اٹھاتے ہیں اور کئی غلطیاں جو نظر ثانی سے نکل سکتی ہیں ان کے پر چوں میں رہ جاتی ہیں۔نظر ثانی کرتے وقت اس بات کے متعلق بھی تسلی کر لینی چاہئے کہ کوئی سوال یا اس کا کوئی حصہ جواب سے رہ نہ گیا ہو۔(25) اکثر طالب علموں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ جلدی جلدی جوابات لکھ کر وقت سے بہت پہلے ہی کمرے سے نکل جاتے ہیں۔یہ ایک بڑی نادانی کی بات ہے۔آخر وقت تک بیٹھے رہنا چاہئے۔اگر پر چہ بظا ہر چھوٹا نظر آتا ہے تو یہ نہ سمجھو کہ متن کا یہ منشاء ہے کہ بجائے تین گھٹنے کے صرف ڈیڑھ یا دو گھنٹے میں پر چہ ختم کر کے اٹھ جاؤ۔بلکہ یقین رکھو کہ ممتحن تم سے زیادہ عظمند ہے۔اور اس نے جو سوالات دئے ہیں وہ وقت مقررہ کے مطابق دئے ہیں۔پس تمہیں چاہئے کہ اس صورت میں جوابات کو تفصیل اور تشریح کے ساتھ لکھو اور پورا وقت لے کر اٹھو۔اور اگر شروع میں کوئی سوال مشکل سمجھ کر چھوڑ دیا تھا تو بقیہ وقت میں اسے سوچتے رہو۔سوچنے سے عموماً مشکل سوال بھی حل ہو جاتا ہے اور اگر سارے سوالات کر بھی لئے ہوں تو پھر بھی وقت