مضامین بشیر (جلد 4) — Page 551
مضامین بشیر جلد چهارم 551 وقت کو ضائع کرتا اور متحن کے دل پر برا اثر پیدا کرتا ہے۔(20) بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ امیدوار کسی سوال کا جواب معین طور پر نہیں دے سکتا لیکن صحیح جواب سے ملتا جلتا جواب دے سکتا ہے اور جو بات پوچھی گئی ہے اس کا ایک مبہم اور منتشر مگر اصولی طور پر درست جواب اس کے ذہن میں ہوتا ہے۔ایسی صورت میں امیدوار کو اس سوال سے ڈر کر اسے ترک نہیں کر دینا چاہئے بلکہ جس حد تک بھی وہ جواب دے سکتا ہے اسے درج کر دینا چاہئے۔لیکن یہ ضروری ہے کہ ایسا سوال پر چہ کے آخر میں درج کیا جائے۔اسی طرح بعض اوقات ترجمہ وغیرہ میں امیدوار کو کسی لفظ یا عبارت کا صحیح ترجمہ یاد نہیں ہوتا یا نہیں آتا مگر سیاق و سباق سے وہ اس کا مفہوم سمجھ لیتا ہے۔ایسی صورت میں بھی اس حصہ کو چھوڑ نہیں دینا چاہئے بلکہ ایسے لفظ یا عبارت کے مفہوم کو اپنے لفظوں میں ادا کر دینا چاہئے۔مگر یہ بات ایسے رنگ میں ہرگز نہیں ہونی چاہئے کہ متن کو یہ خیال پیدا ہوکہ گویا اسے دھو کہ دیا جار ہا ہے۔(21) جوابات میں حتی الوسع صاف اور سلیس اور شستہ عبارت لکھنی چاہئے اور مشکل اور غیر معروف الفاظ اور پیچدار فقرات سے حتی الوسع پر ہیز کرنا چاہئے۔سادہ الفاظ مشکل الفاظ کی نسبت بہت زیادہ بہتر ہوتے ہیں اور ان میں غلطی کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔جو امیدوار مشکل اور غیر معروف الفاظ اور پیچدار بندشوں کے عادی ہوتے ہیں ان کی تحریر میں یقیناً دوسروں کی نسبت بہت زیادہ غلطیاں ہوتی ہیں اور ایک سمجھدار متحن کبھی بھی ایسی تحریر کو صاف اور شتہ تحریر پر ترجیح نہیں دے سکتا۔البتہ جن امیدواروں کو زبان پر کسی حد تک قدرت حاصل ہو ان کے لئے حسب موقع اور حسب ضرورت اپنی تحریر میں زور اور بلندی پیدا کرنے کے لئے مناسب طریق اختیار کرنا مفید ہو سکتا ہے۔مگر یہ ہر ایک کا کام نہیں ہے اور مبتدیوں کو بہر حال اس کوشش سے پر ہیز کرنا چاہئے۔(22) جواب دینے میں اس بات کو خاص طور پر ملحوظ رکھنا چاہئے کہ ہر سوال کی اہمیت اور اس کے نمبروں کے مطابق اسے وقت دیا جائے اور ایسا نہ ہو کہ تھوڑے تھوڑے نمبروں والے سوالات پر لمبے لمبے اور غیر ضروری جوابات لکھ کر وقت کو ضائع کیا جائے۔بلکہ ہر سوال کی اہمیت کے لحاظ سے اسے وقت دینا چاہئے۔اکثر طالب علم پر چہ کے لمبا ہونے اور وقت کے کم ہونے کی شکایت کیا کرتے ہیں۔اور بعض اوقات یہ شکایت درست بھی ہوتی ہے لیکن اکثر صورتوں میں امید واروں ہی کی غلطی ہوتی ہے کہ وہ مختلف سوالات کی اہمیت کا اندازہ نہیں کرتے اور غیر ضروری اور لاتعلق باتوں میں پڑ کر اپنے جوابات کو فضول طور پر لمبا کر دیتے ہیں۔حالانکہ اگر ہر سوال کی اہمیت کا اندازہ کر کے وقت کو تقسیم کیا جائے تو عموماً پر چہ وقت