مضامین بشیر (جلد 4) — Page 553
مضامین بشیر جلد چهارم 553 سے پہلے اٹھ جانا دانشمندی نہیں ہے۔بلکہ اس صورت میں بار بار نظر ثانی کر کے اپنے جوابات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہوتا کہ زیادہ سے زیادہ نمبر ملیں۔(26) پرچے میں کسی طرح اپنا یا اپنے سکول کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہئے۔اسی طرح کوئی بات ایسی نہیں لکھنی چاہئے جس سے امیدوار کی قوم اور مذہب کا پتہ چل سکے۔بعض اوقات طالب علم زبان دانی کے پر چوں میں خط کے نیچے اپنایا اپنے سکول کا نام لکھ دیتے ہیں۔یا اپنے کسی ہم قوم یا ہم مذہب شخص یا دوست کو نام لے کر مخاطب کر لیتے ہیں۔یا کسی اور طرح اپنی قومیت اور مذہب کا اظہار کر دیتے ہیں۔یہ سب باتیں خلاف قاعدہ اور نقصان دہ ہیں۔(27) امتحان میں کسی قسم کا ناجائز ذریعہ استعمال کرنا شرافت اور اخلاق اور مذہب اور قانون کے بالکل خلاف ہے۔اور جو امیدوار ایسا کرتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو اور اپنی قوم کو اور اپنی درسگاہ کے نام کو ایک ایسا داغ لگا دیتے ہیں جو پھر کبھی دھل نہیں سکتا۔دیانت داری شریف انسان کا بہترین زیور ہے۔اسے کسی غرض وغایت اور کسی قیمت پر بھی ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے اور یا درکھنا چاہئے کہ نا جائز مدد دینا بھی ایسا ہی برا ہے جیسے ناجائز مدد لینا۔(28) مندرجہ ذیل ہدایت کو گو امتحان پاس کرنے سے براہ راست تعلق نہیں ہے لیکن امیدواروں کے فائدہ کے لئے یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ کامیابی اور نا کامی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔عام حالات میں جو طالب علم محنت کرتے ہیں اور صحیح طریق پر محنت کرتے ہیں اور امتحان بھی صحیح طریق پر دیتے ہیں وہ خدا کے فضل سے کامیاب ہوتے ہیں اور وہی امید وار فیل ہوتے ہیں جن کی تیاری یا امتحان دینے کے طریق میں کوئی نقص ہوتا ہے۔لیکن بہر حال یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر خدانخواستہ نا کامی کی صورت ہو تو اس پر مایوس ہوکر بیٹھ نہیں جانا چاہئے اور نہ ہی بزدلوں کی طرح مایوسی کی حالت میں کسی لغو حرکت کی طرف مائل ہو جانا چاہئے۔کئی ناکامیاں انسان کی آئندہ ترقی کا باعث بن جاتی ہیں۔پس اگر تم کسی امتحان میں فیل ہو جاؤ تو اس ناکامی کو جواں مردوں کی طرح برداشت کرو۔اور گو ایسے موقع پر صدمہ ہونا ایک طبعی امر ہے اور صدمہ نہ ہونا عموماً بے غیرتی کی علامت ہے لیکن اس صدمہ سے مایوسی میں پڑنے کی بجائے آئندہ زیادہ محنت کر کے فائدہ اٹھاؤ۔اور اپنے خاندان اور قوم اور ملک کے لئے اچھا نمونہ قائم کرو۔( مشکوۃ فروری 2001ء)