مضامین بشیر (جلد 4) — Page 354
مضامین بشیر جلد چہارم 354 جلسہ کے موقع پر مجھ سے ایک پیغام مانگا ہے۔سو میرا پیغام یہ ہے کہ آپ لوگوں کو خدا تعالیٰ نے ایک ایسے براعظم میں خدمت بجالانے کی توفیق دی ہے جو اس وقت تک مغربی اقوام کے استبداد کے ماتحت غلامی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔اور آج وہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے آزادی کے ماحول میں آنکھیں کھول رہا ہے۔پس اس موقع پر سب کو دعا کرنی چاہئے کہ افریقہ کی آزادی حقیقی آزادی ہو جس میں نہ صرف لوگوں کا جسم آزاد ہو بلکہ ان کی روحیں بھی آزاد ہوں اور اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے لئے تمام ترقی کے سامان بصورت احسن مہیا فرمادے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانہ میں وہ قومیں جو دوسروں کی حکومت کے نیچے دب کر پستی کی زندگی گزار رہی ہوں گی آزادی حاصل کریں گی۔اور اللہ تعالیٰ ان کی ترقی کے سامان پیدا کر دے گا۔میری دعا ہے کہ خدا آپ کو دین و دنیا میں ترقی دے اور آپ اس کے فضلوں سے بہترین حصہ پانے والوں میں سے بن جائیں۔اسلام حقیقی مساوات کی تعلیم دیتا ہے۔اور سب کو بھائی بھائی بنا کر ایک صف میں کھڑا کرتا ہے۔اسلامی سوسائٹی میں نہ کوئی اپنی ذات میں بڑا ہے اور نہ کوئی چھوٹا بلکہ وہی شخص بڑا ہے جو اپنے اخلاق اور اپنے ذاتی اوصاف اور اپنے علم و فضل اور اپنی نیکی اور شرافت اور اپنی دینداری کے لحاظ سے بڑا ہو۔پس آپ لوگوں کو چاہئے کہ حقیقی بڑائی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔جو مبلغ جماعت احمدیہ کی طرف سے آپ کے ملک میں گئے ہوئے ہیں وہ حاکم بن کر نہیں گئے۔بلکہ بھائی اور خادم بن کر گئے ہیں۔انہیں چاہئے کہ حقیقی مساوات کا نمونہ قائم کریں اور امن اور محبت اور دلائل کے ذریعہ حق کو پھیلائیں۔بعض لوگوں نے اسلام پر یہ بڑا ظلم کیا ہے کہ گویا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔سواس زمانے میں خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس غرض سے مبعوث کیا ہے کہ وہ اس اعتراض کو جھوٹا ثابت کر کے دکھا ئیں اور عقلی دلائل اور روحانی نشانوں کے ذریعہ اسلام کو غالب کر دیں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے متعلق بڑے بڑے ترقی کے وعدے کئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا سے علم پا کر پیشگوئی فرمائی ہے کہ جو لوگ میری کچی اتباع کریں گے وہ دین و دنیا کے اعلیٰ ترین انعاموں میں سے حصہ پائیں گے۔میری دعا ہے کہ آپ کا ملک بھی ان انعاموں سے حصہ پانے والا ثابت ہو جو مستقبل میں احمدیت کے لئے مقدر ہیں۔آمین اللهم آمین روزنامه الفضل 16 فروری 1962ء)