مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 355 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 355

مضامین بشیر جلد چهارم 11 کچھا اپنے متعلق 355 انسان پر خدا کی اتنی نعمتیں ہیں کہ وہ ان کا شمار نہیں کر سکتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طفیل تو ہم پر خدا کی نعمتوں کا کوئی حد و حساب ہی نہیں۔لیکن پھر بھی بعض اوقات انسان ضعیف البنیان کمزوری دکھا تا اور بے صبری کرتا اور نا شکر گزاری کا مرتکب ہونے لگتا ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ قول کتنا پیارا ہے کہ وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيَ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ - حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی روایت آتی ہے کہ وہ بعض اوقات اپنے آخری ایام میں گھبرا کر یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اللّهُمَّ لَالِي وَلَا عَلَی یعنی اے میرے آقا! میں تجھ سے اپنے کسی نیک عمل کا اجر نہیں مانگتا مگر مجھے میری لغزشوں کی پاداش سے محفوظ رکھ اور میرا حساب کتاب برابر رہنے دے۔اس عاجز کی عمر بھی اس وقت انہتر 69 سال کے قریب ہے بلکہ قمری حساب سے ستر سال سے اوپر ہو چکی ہے اور یہ عمر طبعاً ضعف اور کمزوری کی عمر ہوتی ہے اور اس پر مجھے کئی سال سے تین چار فکر پیدا کرنے والی بیماریاں بھی لاحق ہیں۔اس کے علاوہ حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ بنصرہ کی طویل علالت اور عزیزم میاں شریف احمد صاحب کی وفات کی وجہ سے بھی طبیعت اکثر بے چین رہتی ہے اور اپنی جسمانی اور روحانی کمزوریوں کا خیال بھی دل پر غالب ہے۔اور گو میں خدا کے فضل سے اپنی طاقت کے مطابق صبر پر قائم رہنے کی کوشش کرتا ہوں اور اپنی سمجھ کے مطابق خدا کی بے شمار نعمتوں کا شکر گزار رہنے کی سعی بھی کرتا ہوں مگر دل ڈرتا رہتا اور خوف کھاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی وسیع بخشش اور بے حد رحم و کرم کے باوجود بعض اوقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح دل اس دعا کی طرف مائل ہونے لگتا ہے کہ اللَّهُمَّ لَا لِي وَلَا عَلَيَّ۔پس میں اس رمضان کے مبارک مہینہ میں اپنے دوستوں اور مخلصین جماعت سے اپنے لئے دو خاص دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں۔(1) اول یہ کہ جتنی بھی میری مقدر زندگی ہے اللہ تعالیٰ اس میں مجھے دل کا سکون اور کام کرنے والی جسمانی صحت اور اپنی رضا کے ماتحت مقبول خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور میرا انجام بخیر ہو۔(2) دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے میری کمزوریوں کے باوجود اپنی ذرہ نوازی سے قیامت کے دن اس گروہ میں شامل فرمائے جن کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( فداہ نفسی ) فرماتے ہیں کہ میری امت