مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 39 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 39

مضامین بشیر جلد چهارم فرمایا تھا۔آپ نے فرمایا: إِذْهَبُوا أَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (زرقانی و تاریخ اشميس) یعنی جاؤ تم آزاد ہو۔میری طرف سے تم پر کوئی گرفت نہیں 39 39 پھر اپنے دوستوں اور خادموں کے لئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجسم عفو وشفقت تھے۔چنانچہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اپنی تصنیف ”سیرت مسیح موعود میں حضرت مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ اول) کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی شفقت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ جن دنوں حضرت مسیح موعود اپنی کتاب ” آئینہ کمالات اسلام کا عربی حصہ لکھ رہے تھے۔حضور نے مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ اوّل) کو ایک بڑا دو ورقہ اس زیر تصنیف کتاب کے مسودہ کا اس غرض سے دیا کہ فارسی میں ترجمہ کرنے کے لئے مجھے پہنچا دیا جائے۔وہ ایسا مضمون تھا کہ اس کی خداداد فصاحت و بلاغت پر حضرت کو ناز تھا۔مگر مولوی صاحب سے یہ دو ورقہ کہیں گر گیا۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے ہر روز کا تازہ عربی مسودہ فارسی ترجمہ کے لئے ارسال فرمایا کرتے تھے۔اس لئے اس دن غیر معمولی دیر ہونے پر مجھے طبعا فکر ہوا اور میں نے مولوی نورالدین صاحب سے ذکر کیا کہ آج حضرت صاحب کی طرف سے مضمون نہیں آیا اور کاتب سر پر کھڑا ہے اور دیر ہورہی ہے۔معلوم نہیں کیا بات ہے۔یہ الفاظ میرے منہ سے نکلے ہی تھے کہ مولوی نورالدین صاحب کا رنگ فق ہو گیا کیونکہ یہ دو ورقہ مولوی نورالدین صاحب سے کہیں گر گیا تھا۔بے حد تلاش کی مگر مضمون نہ ملا اور مولوی صاحب سخت پریشان تھے۔حضرت مسیح موعود کو اطلاع ہوئی تو حسب معمول ہشاش بشاش مسکراتے ہوئے باہر تشریف لائے اور خفا ہونا یا گھبراہٹ کا اظہار کرنا تو در کنار اُلٹا اپنی طرف سے معذرت کرنے لگے کہ مولوی صاحب کو مسودہ کے گم ہونے سے ناحق تشویش ہوئی۔مجھے مولوی صاحب کی تکلیف کی وجہ سے بہت افسوس ہے۔میرا تو یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے گم شدہ کاغذ سے بہتر مضمون لکھنے کی توفیق عطا فرمادے گا۔“ سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ 279,278) اس لطیف واقعہ سے ایک طرف حضرت مسیح موعود کے غیر معمولی جذبہ شفقت اور دوسری طرف اپنے آسمانی آقا کی نصرت پر غیر معمولی تو کل پر خاص روشنی پڑتی ہے۔غلطی حضرت مولوی نورالدین صاحب سے ہوئی تھی کہ ایک قیمتی مسودہ کی پوری حفاظت نہیں کی اور اسے ضائع کر دیا مگر حضرت مسیح موعود کی شفقت کا یہ مقام ہے کہ خود پریشان ہوئے جاتے ہیں اور معذرت فرماتے ہیں کہ مولوی صاحب کو مسودہ گم ہونے سے