مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 38 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 38

مضامین بشیر جلد چهارم 38 علیہ السلام کے سخت ترین مخالف تھے بلکہ حقیقتا وہ اسلام کے ہی دشمن تھے۔ایک دفعہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کی محض ایذارسانی کے لئے حضور کے گھر کے قریب والی مسجد کے رستہ میں دیوار کھینچ دی۔اور مسجد میں آنے جانے والے نمازیوں اور حضرت مسیح موعود کے ملاقاتیوں کا رستہ بند کر دیا۔جس کی وجہ سے حضور کو اور قادیان کی قلیل سی جماعت احمدیہ کو سخت مصیبت کا سامنا ہوا اور وہ گویا قید کے بغیر ہی قید ہو کر رہ گئے۔لاچار اس مصیبت کو دور کرنے کے لئے وکلاء کے مشورہ سے قانونی چارہ جوئی کرنی پڑی اور ایک لمبے عرصہ تک یہ تکلیف دہ مقدمہ چلتا رہا۔اور بالآخر خدائی بشارت کے مطابق حضرت مسیح موعود کو فتح ہوئی اور یہ دیوار گرائی گئی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وکیل نے حضور سے اجازت لینے بلکہ اطلاع تک دینے کے بغیر مرزا امام دین اور مرز انظام دین صاحب کے خلاف خرچہ کی ڈگری حاصل کر کے قرقی کا حکم جاری کرالیا۔اس پر مرزا صاحبان نے جن کے پاس اس وقت اس قرقی کی بے باقی کے لئے پورا روپیہ نہیں تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بڑی لجاجت کا خط لکھا اور یہاں تک کہلا بھیجا کہ بھائی ہوکر اس قرقی کے ذریعہ ہمیں کیوں ذلیل کرنے لگے ہو؟ حضرت مسیح موعود کو ان حالات کا علم ہوا تو آپ اپنے وکیل پر سخت خفا ہوئے کہ میری اجازت کے بغیر خرچہ کی ڈگری کیوں کرائی گئی ہے؟ اسے فوراوا پس لو۔اور دوسری طرف مرزا صاحبان کو جواب بھجوایا کہ آپ بالکل مطمئن رہیں کوئی قرقی نہیں ہوگی۔یہ ساری کارروائی میرے علم کے بغیر ہوئی ہے۔(سیرت المہدی وسیرت مسیح موعود مصنفہ عرفانی صاحب صفحہ 115 تا 117 ) دوست سوچیں اور غور کریں کہ حضرت مسیح موعود کے شرکاء جن کی دشمنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی حضور کو دکھ دینے کے لئے اور حضور کی مٹھی بھر جماعت کو (اس وقت جماعت مٹھی بھر ہی تھی ) پریشان کر کے منتشر کرنے کے لئے ایک خطر ناک تدبیر کرتے ہیں اور پھر اس تدبیر کو کامیاب بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں اور جھوٹا سچا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔مگر جب وہ نا کام ہوتے ہیں اور حضرت مسیح موعود کی اطلاع کے بغیر ان پر خرچہ کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے تو بھاگتے ہوئے حضرت مسیح موعود کی طرف رجوع کرتے ہیں۔اور ظالم ہوتے ہوئے گلہ کرتے ہیں کہ ہم پر یہ بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ اس کے مقابل پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مظلوم ہوتے ہوئے بھی اپنے دشمنوں سے معذرت کرتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے وکیل نے مجھ سے پوچھے بغیر یہ ڈگری جاری کرا دی ہے۔یہ سلوک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فدا نفسی) کے اس عدیم المثال سلوک کی اتباع میں تھا جو آپ نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے مفتوح اور مغلوب دشمنوں سے