مضامین بشیر (جلد 4) — Page 558
مضامین بشیر جلد چہارم 558 یہ وہ مختلف درجے ہیں جن میں انسانی زندگی منقسم پائی جاتی ہے۔اب ہر شخص خود سوچ سمجھ سکتا ہے کہ اس کی زندگی کس قسم میں داخل ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اکثر لوگ دیانتداری کے ساتھ اس معاملہ میں غور کریں تو ان کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کی زندگی ایک محض حیوانی زندگی ہے۔ان کی زندگی کا مقصد اپنی ذات یا اہل و عیال یا خاندان کی ضروریات کے پورا کرنے کے سوا اور کچھ نظر نہیں آئے گا اور اس دائرہ سے باہر ان کے جتنے تعلقات ہوں گے ان کی بھی اصل غرض و غایت یہی ہو گی کہ وہ اپنی یا اپنے اہل وعیال یا اپنے خاندان کی ترقی اور آرام و آسائش کا سامان مہیا کریں۔حقیقی معنوں میں انسانی زندگی بسر کرنے والے لوگ دنیا میں تھوڑے ہوتے ہیں تو پھر ان لوگوں کی تعداد تو بہت ہی کم ہے جو ملکی دائرہ میں داخل ہو کر کامل انسان بننے کی کوشش کرتے ہیں۔حالانکہ انسان کی پیدائش کی اصل غرض و غایت ہی یہ ہے کہ انسان خدا کیلئے زندگی گزارے۔جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُون (الذاريات : 57)۔یعنی ہم نے دنیا میں انس و جن کو صرف اسی غرض سے پیدا کیا ہے کہ وہ ہمارے عبد بن کر زندگی گزار ہیں۔اس جگہ عبادت سے صرف نماز اور روزہ وغیرہ کی معین رسمی عبادت مراد نہیں ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ انسان کو اسی غرض سے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو خدا کے منشاء کے ماتحت چلائے اور ہر کام میں خواہ وہ دنیا کا ہو یا دین کا اس کے مدنظر خدا کی خوشنودی ہو اور اسی لئے خدا کی خاطر زندگی گزارنے میں حقوق العباد کی ادائیگی بھی شامل ہے کیونکہ جب کہ خدا نے دنیا کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور اس کا منشاء ہے کہ ہر چیز اپنے مقررہ حلقہ کے اندر مفید طور پر زندگی بسر کرے تو لازماً اس کے عبد کا بھی یہی فرض ہوگا کہ وہ خدا کے منشاء کو پورا کرتے ہوئے خالق کی خدمت کے ساتھ ساتھ مخلوق کی خدمت کو بھی اپنا نصب العین بنائے۔پس اے ہمارے عزیز بچو! آپ کو چاہئے کہ آپ اپنی زندگیوں کا مطالعہ کریں اور ہمیشہ کرتے رہیں اور اس بات کو دیکھتے رہیں کہ آپ کس قسم کی زندگی گزار رہے ہیں۔اگر آپ دیکھیں کہ آپ کی زندگی صرف کھانے پینے اور اپنے نفس کی ضروریات پوری کرنے تک محدود ہے یا یہ کہ آپ کی زندگی کی غرض و غایت اپنے رشتہ داروں اور خاندان سے باہر نہیں جاتی اور آپ کے ساتھ کام اسی نیت کے ماتحت ہیں کہ ان سے آپ کی ذات کو یا آپ کے رشتہ داروں کو یا خاندان کو یا دوستوں کو ( کیونکہ دوست بھی دراصل رشتہ داروں کے حکم میں ہیں ) کوئی فائدہ پہنچ جائے اور آپ کی تعلیم بھی اسی غرض سے ہے کہ آپ مندرجہ بالا دائرہ کی ضروریات کو زیادہ بہتر صورت میں مہیا کر سکیں تو آپ یقین کریں کہ آپ کی زندگی دراصل ایک حیوانی قسم کی