مضامین بشیر (جلد 4) — Page 554
مضامین بشیر جلد چهارم مفیدترین زندگی 554 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے نے 1933ء میں ٹی۔آئی۔ہائی سکول قادیان کے میگزین کے سالانہ نمبر کے لئے درج ذیل مضمون تحریر فرمایا۔آیئے اس متبرک تحریر کا مطالعہ کریں اور اپنا جائزہ لیں ) میں اس وقت انسانی زندگی کے مسئلہ پر کچھ کہنا چاہتا ہوں یعنی یہ کہ دنیا میں انسان امکانی طور پر کس کس رنگ میں زندگی گزار سکتا ہے اور زندگی کی وہ کونسی قسم ہے جو مفید ہونے کے لحاظ سے سب سے اعلیٰ اور ارفع ہے۔غور کرنے سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اپنی غرض و غایت کے لحاظ سے انسانی زندگی مندرجہ ذیل اقسام میں منقسم ہے۔1۔وہ زندگی جو انسان اپنی ذات کے لئے گزارتا ہے۔2۔وہ زندگی جو انسان اپنے اہل وعیال کیلئے گزارتا ہے۔3۔وہ زندگی جو انسان اپنے خاندان کے لئے گزارتا ہے۔4۔وہ زندگی جو انسان اپنی قوم کے لئے گزارتا ہے۔5۔وہ زندگی جو انسان اپنے ملک کے لئے گزارتا ہے۔6۔وہ زندگی جو انسان بنی نوع انسان کے لئے گزارتا ہے۔7۔وہ زندگی جو انسان گل مخلوقات کے لئے گزارتا ہے۔8۔وہ زندگی جو انسان خدا کے لئے گزارتا ہے۔زندگی کی یہ تقسیم محض خیالی یا علمی تقسیم نہیں ہے بلکہ حقیقتا دنیا میں انسانی زندگی انہیں اقسام میں منقسم پائی جاتی ہے اور کوئی انسان ایسا نہیں جس کی زندگی ان اقسام سے باہر بھی جا سکے۔گو یہ ممکن ہے کہ انہیں اقسام کو کوئی شخص کسی دوسرے نام کے ساتھ پیش کرے۔مگر یہ ایک محض اصطلاحی فرق ہوگا ورنہ حقیقت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے۔اب جب ہم ان اقسام پر نظر ڈالتے ہیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نقشہ بالا میں زندگی کی اقسام (سوائے قسم نمبر 4 دونمبر 5 کے جو بعض صورتوں میں ایک دوسرے کے مقابل کم یا زیادہ وسیع ہو جاتی ہیں ) ایک طبعی ترتیب میں مرتب ہیں۔یعنی پہلی قسم کی زندگی کی غرض و غایت کا دائرہ بہت ہی محدود ہے۔دوسری قسم میں یہ دائرہ پہلی قسم کی نسبت کسی قدر وسیع ہے۔تیسری میں اور زیادہ وسیع ہے۔وعلی ہذا القیاس حتی کہ آخری قسم میں نیچے کی ساری اقسام شامل ہیں۔یعنی جو انسان