مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 549 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 549

مضامین بشیر جلد چہارم 549 کر دے گا اور تمہارے دماغ کی بند کھڑکیاں کھل جائیں گی۔اور تم دیکھو گے کہ جو چیز مشکل نظر آتی تھی وہ اب آسان ہو گئی ہے۔اگر زیادہ گھبراہٹ ہو تو دو چار منٹ کیلئے پرچے کو ہاتھ سے رکھ دو اور آنکھیں بند کر کے خدا سے دعا کرو کہ وہ تمہیں سکون اور ہمت عطا کرے۔اور جب دل ذرا ٹھہر جائے تو پھر دوبارہ پرچے کو اٹھا کر اس نیت سے پڑھو کہ اس دفعہ وہ تمہارے لئے مشکل نہیں رہے گا۔غرض ہر جہت سے اپنی طبیعت میں اطمینان اور ہمت اور امید کو قائم رکھو اور گھبراہٹ کو اپنے پاس تک نہ پھٹکنے دو۔(13 ) امتحان کے لئے تیاری کرتے وقت اور امتحان دیتے وقت کبھی یہ خیال نہ کرو کہ تم نے صرف امتحان پاس کرنا ہے اور بس۔بلکہ یہ نیت رکھو کہ تم نے اعلیٰ نمبروں پر امتحان پاس کرنا ہے۔اس سے تمہاری ہمت میں بلندی پیدا ہوگی اور تمہارے جوابوں کا معیار اونچا ہو جائے گا۔امتحان کے کمرے میں آخر وقت تک یہ کوشش جاری رکھو کہ تمہارے جوابات کے وہ حصے جو بہتر بنائے جاسکیں وہ اپنی انتہائی حد تک بہتر بنا دیے جائیں تا کہ تم زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کر سکو۔نیت کا اثر انسان کے اعمال پر پڑتا ہے۔جو طالب علم صرف پاس ہونے کی نیت رکھتا ہے وہ کبھی بھی اچھے نمبر نہیں لے سکتا۔بلکہ بسا اوقات ایسا طالب علم فیل ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی ذراسی غلطی اسے اس کے معیار سے نیچے گرا دیتی ہے۔لیکن جو امید وار اعلیٰ نمبر لینے کا ارادہ رکھتا ہے اور اسی نیت سے اپنے جوابات لکھتا ہے وہ اگر کسی نقص کی وجہ سے اعلی نمبر نہیں بھی لے سکتا تو کم از کم پاس ضرور ہو جاتا ہے۔پس پرچہ کرتے وقت ہمیشہ یہ نیت رکھو اور اسی کے مطابق کوشش کرو۔کہ تم نے زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے ہیں۔(14) جوابات کاپی کے صرف ایک طرف لکھنے چاہئیں اور دوسری طرف کو خالی چھوڑ دینا چاہئے۔البتہ دوسری طرف سیسہ کی پنسل سے رف کام کیا جا سکتا ہے جو بعد میں پینسل سے چر پی کا نشان دے کر کاٹ دینا چاہئے۔کاپی کے سیدھے طرف کافی حاشیہ چھوڑنا چاہئے جو کسی صورت میں صفحہ کی چوڑائی کے چہارم حصہ سے کم نہیں ہونا چاہئے۔اسی طرح ہر صفحہ کے اوپر اور نیچے کچھ جگہ خالی چھوڑ دینی چاہئے اور بالکل کنارے تک صفحہ کو بھر دینا چاہئے۔اچھا حاشیہ چھوڑنے اور اوپر اور نیچے جگہ خالی رکھنے سے تمہاری تحریر بہت خوبصورت نظر آئے گی اور متحن کے دل پر اچھا اثر پڑے گا۔(15) جوابات دینے میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اسی ترتیب کو مدنظر رکھا جائے جو سوالات کے پرچے میں رکھی گئی ہے۔بلکہ یہ ضروری ہے کہ پہلے ان سوالات کو کیا جائے جو امید وار کو اچھی طرح آتے ہوں۔البتہ جو سوال کیا جائے اس کے مقابل پر حاشیہ میں اس سوال کا نمبر درج کر دینا چاہئے۔مگر بہر حال پہلے وہ سوال