مضامین بشیر (جلد 4) — Page 548
مضامین بشیر جلد چهارم 548 خود اعتمادی پیدا کریں۔اور یقین رکھیں کہ وہ لوگ جو ان کے سامنے ہیں وہ ان کے دوست ہیں نہ کہ دشمن۔اگر بالفرض وہ دشمن بھی ہیں تو ایسے دشمن ہیں جو مفتوح ہونے کے لئے ان کے سامنے لائے گئے ہیں۔(10 ) جو کا پیاں جواب کیلئے دی جاتی ہیں انہیں جوابات شروع کرنے سے پہلے دیکھ لینا چاہئے کہ وہ پھٹی ہوئی اور خراب نہ ہوں اگر وہ خراب ہوں تو انہیں اسی وقت بدلوا لینا چاہئے اور کاپی کے اوپر جو ہدایات لکھی ہوئی ہوں ان کو اچھی طرح پڑھ کر سمجھ لینا چاہئے۔اور ان کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔کاپی میں جو جگہ رول نمر اور مضمون و غیرہ درج کرنے کیلئے مقرر ہے اس میں شروع میں ہی ضروری اندراجات کر لینے چاہئیں اور کا پیاں واپس دینے سے پہلے انہیں آپس میں اچھی طرح سنتھی کر لینا چاہئے۔جب سوالات کا پرچہ تقسیم کیا جائے تو اسے دعا کرنے کے بعد پڑھنا چاہئے۔اور جواب شروع کرنے سے پہلے سوالات کا سارا پر چہ احتیاط سے پڑھ لینا چاہئے۔اور پرچے کے شروع یا آخر یا درمیان میں اگر کوئی ہدایات درج ہوں تو انہیں بھی احتیاط کے ساتھ دیکھ لینا چاہئے۔بعض اوقات یہ ہدایت درج ہوتی ہے کہ اتنے سوالوں میں سے صرف اتنے کر دیا یہ کہ سوالات کے فلاں فلاں حصوں کے جوابات الگ الگ کاپیوں میں لکھو وغیرہ وغیرہ۔مگر بعض اوقات طالب علم ان ہدایات کو اچھی طرح نہیں پڑھتے اور نقصان اٹھاتے ہیں۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سوالات کے پرچے میں ایک صفہ ختم کر کے دوسری طرف بھی سوالات لکھے ہوئے ہوتے ہیں مگر طالب علم غلطی سے صفحہ الٹا کر نہیں دیکھتے۔اور جو سوالات پہلے صفحہ پر درج ہوتے ہیں انہی کے جواب لکھ کر امتحان سے اٹھ آتے ہیں۔جس کا نتیجہ ظاہر ہے۔پس امید واروں کو چاہئے کہ پر چہ سوالات کو الٹ پلٹ کر اچھی طرح تسلی کر لیا کریں کہ کوئی سوال رہ تو نہیں گیا۔(12 ) اگر سوالات کا پرچہ دیکھنے سے تمہیں وہ مشکل معلوم ہوا ور تم سمجھو کہ تم اسے حل نہیں کر سکتے تو پھر بھی ہرگز نہ گھبراؤ کیونکہ گھبرانے سے مشکل میں زیادتی ہوگی نہ کہ کمی۔اور دماغ اور بھی پریشان ہو جائے گا۔بلکہ چاہئے کہ کوشش کر کے اپنی حالت میں سکون اور اطمینان کی حالت پیدا کر واور پھر دوبارہ سہ بارہ پر چہ کوغور سے دیکھو اور اسے سمجھنے کی کوشش کرو اور اپنی طبیعت کو اس طرف لگاؤ کہ تم کوشش کر کے پرچے کو یقیناً حل کر سکو گے۔اس طرح تمہاری گھبراہٹ دور ہوگی اور جو پر چہ شروع میں مشکل نظر آتا ہے وہ سب کا سب یا اس کے بہت سے حصے تمہارے لئے آسان ہو جائیں گے۔کسی پرچہ کے متعلق یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ وہ ایسا مشکل ہے کہ تم اسے حل نہیں کر سکتے۔بلکہ دلیری اور جرات کے ساتھ یہ خیال رکھنا چاہئے کہ تم اگر کوشش کرو گے تو خدا کی مدد سے پرچے کو آسانی کے ساتھ حل کر سکو گے۔یہ خیال تمہارے اندر ایک غیر معمولی ہمت پیدا