مضامین بشیر (جلد 4) — Page 550
مضامین بشیر جلد چہارم 550 کرنے چاہئیں جو طالب علم کو اچھی طرح آتے ہوں۔اس طرح ایک تو شروع میں ہی ممتحن کے دل پر اچھا اثر پڑے گا اور گویا تمہاری دکان کا ماتھا سج جائے گا اور دوسرے ابتداء میں ہی مشکل سوال میں پڑ جانے سے طالب علم کا قیمتی وقت ضائع نہیں ہوگا اور نہ ہی طبیعت میں گھبراہٹ پیدا ہو گی۔ورنہ بعض اوقات شروع میں ہی مشکل سوالوں کو ہاتھ ڈال دینے سے اور پھر ان کو اچھی طرح حل نہ کر سکنے سے امیدوار ایسا گھبرا جاتا ہے کہ جو سوال اسے اچھی طرح آتے ہیں وہ بھی غلط ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔پس یہ نہایت ضروری ہے کہ سب سے پہلے ان سوالوں کو کیا جائے جو آسان ہوں اور طالب علم آسانی کے ساتھ ان کا جواب دے سکتا ہو۔البتہ جب ایسے سوالات کر لئے جائیں تو پھر بقیہ سوالات کی طرف توجہ دے کر انہیں بھی حتی الوسع کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اگر وقت ہو تو کسی سوال کو بھی مشکل سمجھ کر چھوڑ نہیں دینا چاہئے۔بسا اوقات ایک سوال جو شروع میں مشکل نظر آتا ہے وہ سوچنے اور غور کرنے سے آسان ہو جاتا ہے۔اور اگر ایک سوال سارا نہ آتا ہو تو جتنا آتا ہو اتنا ہی کر دینا چاہئے۔لیکن بہر حال پہلے ان سوالوں کو کرنا چاہئے جو ا چھی طرح آتے ہوں۔( 16 ) ہر سوال کا جواب شروع کرنے سے پہلے سوال کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اس کا اصل منشاء کیا ہے اور طالب علم سے کیا پوچھا گیا ہے۔بعض اوقات طالب علم بغیر سوال کو اچھی طرح سمجھنے کے اس کا جواب دینا شروع کر دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سوال کچھ اور ہوتا ہے اور جواب کچھ اور۔بغیر سوال کو سمجھنے کے کبھی جواب دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔(17) حتی الوسع ایک صفحہ پر ایک ہی سوال کرنا چاہئے اور اگر کسی سوال کا جواب اس قدر مختصر ہو کہ وہ صفحہ کی تھوڑی سی جگہ لے کر ختم ہو جائے تو صفحہ کے نیچے یا کونے میں سرخ یا نیلی پنسل سے نمایاں کر کئے ” پی۔ٹی۔او یا ”آگے دیکھیں“ کے الفاظ لکھ دینے چاہئیں تاکہ ممتحن اسی جگہ پر چہ کو ختم نہ سمجھ لے۔( 18 ) جواب لکھتے ہوئے سوال کی عبارت کو درج کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ صرف حاشیہ میں سوال کا نمبر درج کر دینا کافی ہوتا ہے۔اگر ایک سوال کے کئی حصے ہوں تو حاشیہ میں حصہ کا نمبر بھی درج کر دینا چاہئے۔سوال کی عبارت کو جواب کے ساتھ درج کرنا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ اس سے مفت میں طالب علم کا وقت ضائع ہوتا ہے اور یہ طرز دیکھنے میں بھی کچھ اچھی نہیں لگتی۔البتہ اگر کوئی سوال ایسا ہو کہ کسی وجہ سے اسے جواب میں دہرانا ضروری ہو تو پھر اسے درج کرنا چاہئے۔(19) سوالات کا جواب بالعموم مختصر اور ضروری حد تک محدود رہنا چاہئے۔سوائے اس کے کسی سوال کا جواب تفصیل اور تشریح کے ساتھ دیا جانا ضروری ہو۔غیر متعلق باتیں لکھنا اور فضول طور پر جواب کو لمبا کر دینا