مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 426 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 426

مضامین بشیر جلد چهارم 426 تقلید میں ماحول کے اثر کے ماتحت بعض کمزور طبیعت کی احمدی لڑکیاں اور لڑ کے بھی اس معاملہ میں کمزوری دکھانے لگے ہیں۔حالانکہ خدا کے فضل سے احمدیت کی تو وہ شان ہے جس کے مقدس بانی کے متعلق خدا نے فرمایا ہے کہ يُخي الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ۔یعنی وہ دین کو زندہ کرے گا اور شریعت کو قائم کرے گا۔پھر یہ کتنے افسوس کی بات اور غیرت کا مقام ہے کہ بعض احمدی نوجوان اس معاملے میں دوسروں کی دیکھا دیکھی کمزوری دکھانے لگے ہیں۔نقالی بدترین قسم کی غلامی ہوتی ہے جس کے متعلق قرآن مجید نے قِرَدَةً خَاسِئِينَ کی مثال بیان فرمائی ہے۔اس لئے ہمارے نوجوانوں کو نقالی سے قطعی طور پر بچ کر رہنا چاہئے اور غیر اسلامی ماحول کے پیچھے لگنے کی بجائے خود اپنا نیک ماحول پیدا کرنا چاہئے۔پردہ اسلامی تعلیم کا ایسا ضروری حصہ ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں شد ومد کے ساتھ ذکر آیا ہے۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ عورتیں گھروں کی چاردیواری میں قید ہو کر رہ جائیں اور ترقی کے مواقع سے محروم رہیں۔مگر وہ یہ ضرور کہتا ہے کہ ایک طرف تو مرد و عورت دونوں غض بصر سے کام لیں جو پاکیزگی کی روح ہے اور دوسری طرف عورتیں غیر محرم مر دوں سے اپنے جسم اور لباس کی زینت کو چھپائیں۔کیا احمدی نوجوان خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ یہ طاقت نہیں رکھتے کہ اسلامی تعلیم کے مطابق پاک رستہ پر گامزن ہو کر دنیا کے لئے اچھا نمونہ قائم کریں؟۔اور یقیناً اس معاملہ میں انصار اللہ کی خصوصی ذمہ داری ہے کیونکہ وہ جماعت کے سینئر رکن ہیں۔انہیں نہ صرف خود غیر اسلامی طریق سے بچنا چاہئے بلکہ اپنے بچوں اور عزیزوں کو بھی بچانے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔اسی طرح آجکل فیشن پرستی کی وباء بھی دنیا میں بڑھتی اور پھیلتی جا رہی ہے جو فضول خرچی کے علاوہ مردوں اور عورتوں کے اخلاق کو بگاڑ کر کئی قسم کی خرابیوں کا بیج بو رہی ہے۔اس معاملہ میں بھی انصار اللہ اپنی صحت مندانہ اور مربیانہ طریق سے بہت اچھا اثر پیدا کر سکتے ہیں اور انہیں ضرور اس طرف توجہ دینی چاہئے۔بھوک ہڑتال کی وبا اسی طرح آجکل ملک میں بھوک ہڑتال کی بھی ایک غیر اسلامی رو چل پڑی ہے جو ایک متعدی مرض کی طرح پھیلتی جارہی ہے۔چند دن ہوئے میں نے اس کے متعلق روز نامہ الفضل میں ایک مختصر سا مضمون لکھا تھا جس میں میں نے بتایا تھا کہ بھوک ہڑتال یا تو خود کشی کا اقدام ہے یا وہ محض دکھاوا اور نمائش ہے۔اور دونوں صورتوں میں وہ ناجائز اور اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنے نفس کو قتل کرنے والا جہنم کا رستہ اختیار کرتا ہے اور آپ نے ایسے شخص کا جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی جو خود اپنی جان کو ہلاک کرتا ہے۔اور اگر بھوک ہڑتال کرنے والے کی نیت جان دینے کی نہیں بلکہ محض نمائش