مضامین بشیر (جلد 4) — Page 425
مضامین بشیر جلد چهارم 425 ہو یا آپ کا کلام سنا ہو اور اسے آپ کا دیکھنا یا آپ کا کلام سنا یاد ہو وہ صحابی ہے۔مگر صحابی کی اصل اور حقیقی تعریف یہ ہے کہ صحابی وہ ہے جس نے پوری ہوش اور سمجھ کے زمانے میں احمدی ہونے کی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا ہو یا آپ کا کلام سنا ہو اور آپ کی ایسی صحبت اٹھائی ہو کہ اس کی وجہ سے آپ کے نور کا وارث بن گیا ہو اور آپ کے خدا دادمشن میں مددگار رہا ہو۔مگر افسوس ہے کہ ایسے لوگ اب کم ہیں بہت کم۔لیکن جو بھی ہیں ان کے حالات جلد تر مع ضروری کوائف کے ضبط میں آجانے چاہئیں۔بلکہ نرم تعریف کے لحاظ سے بھی جو لوگ صحابی ثابت ہوں ان کے حالات بھی ضبط میں آجانے ضروری ہیں۔کیونکہ بہر حال انہوں نے بھی مسیح محمد مکی کی برکتوں سے حصہ پایا ہے۔انصار اللہ جماعتی میوزیم کے قیام میں مدد دیں دوستوں کو معلوم ہوگا کہ حال ہی میں نگران بورڈ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تبرکات کی فہرست مرتب کرنے اور ان کے حالات ضبط میں لانے کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی ہے۔اگر انصار اللہ کے ممبر اس مبارک کام میں مدد دے سکیں تو ان کے لئے بڑے ثواب کا موجب ہوگا اور جماعت کے تاریخی میوزیم کے قائم کرنے میں بہت مدد ملے گی۔زمانے کے بعد کی وجہ سے تبرکات کے ضائع چلے جانے کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف ان کے متعلق تصدیق حاصل کرنے کی مشکلات بھی زیادہ ہو رہی ہیں۔پس اگر انصار اللہ اس کام میں مقررہ کمیٹی کی مدد فرما سکیں تو بڑے ثواب اور شکریہ کا موجب ہوگا۔تبرکات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پار چات نمبر اول پر ہیں کیونکہ خدائی الہام "بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گئے، میں اس کا خاص طور پر ذکر آتا ہے۔اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور اشتہارات کے مسودات اور حضور کے خطوط وغیرہ سب تبرکات میں شامل ہیں۔یہ تبرکات صرف شہروں تک ہی محدود نہیں بلکہ دیہات میں بھی پائے جاتے ہیں۔اور انصار اللہ کو اپنے اپنے حلقہ میں اس کے متعلق ضرور کوشش کرنی چاہئے۔اور پھر مقررہ فارم کے مطابق کمیٹی کے سیکرٹری ملک سیف الرحمن صاحب کو معین اور مفصل اطلاع بھجوا دینی چاہئے۔لیکن یہ احتیاط ضروری ہوگی کہ جو بھی اطلاع دی جائے وہ صحیح اور مستند ہو۔اسلامی پردے کو قائم کرنے میں انصار اللہ کی ذمہ داری غالباً میں نے گزشتہ سال بھی انصار اللہ کے اجتماع کے افتتاح کے موقع پر اسلامی پردے کے متعلق انصار اللہ کو توجہ دلائی تھی۔آجکل چونکہ غیر از جماعت لوگوں میں پردہ اُٹھتا چلا جارہا ہے اس لئے ان کی اندھی