مضامین بشیر (جلد 4) — Page 427
مضامین بشیر جلد چہارم 427 اور دکھاوا ہے تو پھر یہ بھی ایک بدترین خلق ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔پس انصار اللہ کو چاہئے کہ محبت اور نصیحت کے رنگ میں ملک کے اندر اس غیر اسلامی رجحان کے استیصال کی کوشش کریں۔دراصل یہ مرض مسلمانوں میں گاندھی جی کی اتباع سے آیا ہے حالانکہ مسلمانوں کے لئے رسول پاک کو اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے نہ کہ گاندھی جی کو جو کہ ہندو مذہب کے پیرو تھے۔بیاہ شادی میں اسراف اور نا جائز مطالبات ایک اور نا پاک رجحان جو ملک کے معاشرے میں پیدا ہو رہا ہے وہ بیاہ شادی کے موقع پر اپنی طاقت سے بڑھ کر خرچ کرنے اور دوسرے فریق سے ناجائز مطالبات منوانے سے تعلق رکھتا ہے۔یہ رجحان بہت سی سماجی خرابیوں کا باعث بن رہا ہے۔اور اسلامی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نور چشم حضرت فاطمہ کو ایک مشکیزہ اور ایک چکی دے کر اپنے گھر سے رخصت کر دیا تھا۔بے شک جسے خدا نے وسعت دی ہو وہ سادگی کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کر سکتا ہے کیونکہ تحدیث بالنعمت بھی شکر گزاری کا ایک ذریعہ ہے۔مگر قرض اٹھا کر یا سادگی کی حدود کو توڑ کر بیاہ شادی کے موقع پر اسراف سے کام لینا نہایت معیوب ہے اور اس سے قطعی طور پر اجتناب کرنا چاہئے۔اسی طرح دوسرے فریق سے خواہ وہ لڑکی والے ہوں یا لڑکے والے ناواجب مطالبات کرنا بھی کسی طرح جائز نہیں۔ایسے مطالبات خواہ دکھاوے کے رنگ میں ہوں یا حقیقتاً کئے جائیں بہرصورت بہت معیوب ہیں اور بعض اوقات خاندانوں کی تباہی کا باعث بن جاتے ہیں۔مجھے یہ سن کر سخت دکھ ہوا اور حیرت بھی ہوئی کہ ربوہ کی ایک خاتون نے اپنی لڑکی کے لئے رشتہ کی تجویز آنے پر لڑکے والوں سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اپنی کوٹھی ہے؟ اور کیا تم شادی میں میری لڑکی کو موٹر لے کر دے سکو گے؟۔انصار اللہ کو چاہئے کہ اپنے نیک نمونہ اور مسلسل تعلیم وتلقین کے ذریعہ ان سماجی خرابیوں کو جڑ سے اکھیڑ دیں اور سادہ زندگی اختیار کریں کیونکہ انسان کے لئے جو راحت اور قلبی سکون سادہ زندگی میں ہے وہ تعیش کی زندگی میں ہرگز نہیں۔علمی خدمت کے لئے تحریر کا ملکہ پیدا کیا جائے اب میں کچھ علمی خدمت کی تحریک کرنا چاہتا ہوں۔مجھے خوشی ہے کہ انصار اللہ میں بلکہ خدام الاحمدیہ میں بھی اب اچھے اچھے لکھنے والے پیدا ہورہے ہیں مگر ابھی تک اس میدان میں بڑی اصلاح اور ترقی کی گنجائش ہے۔قلم کا اثر لمبا اور دائمی ہوتا ہے۔اسی لئے قرآن مجید فرماتا ہے الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمُ عَلَّمَ