مضامین بشیر (جلد 4) — Page 395
مضامین بشیر جلد چهارم 395 کسی فیکٹری یا کارخانہ کے افسروں کا کوئی حکم لوگوں کی مرضی کے خلاف ہوتا ہے تو بعض لوگ جھٹ بھوک ہڑتال کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور حکومت کو یا افسروں کو دھمکی دیتے ہیں کہ ہم اُس وقت تک کھانے پینے سے اجتناب کریں گے جب تک کہ فلاں فیصلہ منسوخ کر کے ہماری مرضی کے مطابق فیصلہ نہ کیا جائے۔اس وباء کے جراثیم چند سال سے بہت زیادہ ترقی کر گئے ہیں حتی کہ بعض لڑکیاں اور عورتیں بھی بھوک ہڑتال کرنے لگ گئی ہیں اور آجکل تو قریباً ہر روز اخبار اس قسم کی خبروں سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔دراصل یہ بدعت گاندھی جی آنجہانی نے شروع کی تھی اور مسلمانوں نے حسب عادت آنکھیں بند کر کے ان کی پیروی شروع کر دی۔اور یہ نہ دیکھا کہ اس معاملہ میں اسلام کی اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کیا ہے۔گاندھی جی کے نظریات سے اس جگہ ہماری کوئی بحث نہیں۔وہ ہندو مذہب کے پیرو تھے اور انہیں اختیار تھا کہ اپنے مذہب کی اتباع میں یا بقول خود اپنے دل کی روشنی کے پیچھے لگ کر جو رستہ چاہیں اختیار کریں اور ان کے ماننے والے بھارت کے ہند و اصحاب بھی اس معاملہ میں اختیار رکھتے ہیں کہ جو چاہیں کریں ہمیں ان کے ساتھ الجھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے كُلُّ يَعْمَلُ عَلى شَاكِلَتِه یعنی ہر شخص اپنے عقیدہ اور اپنے طریق کے مطابق کام کرتا ہے۔لیکن افسوس ہے تو یہ ہے که رسول عربی (فداہ نفسی) خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں نے بھی اس معاملہ میں گاندھی جی کے چیلے بن کر ان کی پیروی شروع کر دی ہے۔ہر مسلمان جانتا ہے اور اگر نہیں جانتا تو اسے اب جان لینا چاہئے کہ بھوک ہڑتال خود کشی ہی کی ایک قسم ہے۔جو شخص کسی مقصد کے حاصل کرنے کے لئے خواہ وہ جائز ہی ہودیدہ و دانستہ خودکشی کا ارتکاب کرتا ہے اور اپنی اُس جان کو خود اپنے ہاتھ سے ضائع کرتا ہے جو خدا نے اسے ایک مقدس امانت کے طور پر دے رکھی ہے وہ دراصل ایک جان کا قاتل بنتا ہے کیونکہ اگر غور کیا جائے تو اس میں اور ایک قاتل میں چنداں فرق نہیں۔ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خودکشی کے اتنے خلاف تھے کہ آپ خود کشی کرنے والے مسلمان کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے۔بلکہ حضور کی تعلیم کے ماتحت صحابہ کرام بھی اس معاملہ میں اتنے محتاط تھے کہ ایک دفعہ ایک لڑائی میں ایک صحابی کی تلوار ہنگامہ کے وقت میں کوٹ کر خود اُسے آلگی اور وہ اس زخم سے وفات پا گیا۔اس پر بعض صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! فلاں مسلمان اپنی ہی تلوار کی چوٹ سے فوت ہو گیا ہے کیا ہم اس کا جنازہ پڑھیں؟ آپ نے حالات سن کر فیصلہ فرمایا کہ چونکہ اس کی نیت اپنے آپ کو مارنے کی نہیں تھی اور اس کی تلوار محض اتفاقی طور پر اسے لگ گئی تھی