مضامین بشیر (جلد 4) — Page 396
مضامین بشیر جلد چهارم 396 اس لئے تم بے شک اس کا جنازہ پڑھو کیونکہ وہ خود کشی کرنے والا نہیں تھا۔بہر حال خود کشی کرنے والا انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح اور واضح تعلیم کے خلاف قدم اٹھاتا ہے اور اسلام نے اس کا جنازہ تک جائز قرار نہیں دیا۔دراصل بھوک ہڑتال کرنے والا انسان دو باتوں سے خالی نہیں ہوتا۔یا تو اس کی واقعی اور سچ سچ یہ نیت ہوتی ہے کہ اگر اس کا مطالبہ نہ مانا گیا تو وہ اپنی جان کو خود اپنے ہاتھ سے ہلاک کر دے گا۔اس صورت میں اس کا یہ فعل خود کشی میں داخل ہوگا اور وہ ایک انسان کا قاتل سمجھا جائے گا۔اور اگر اس کی بھوک ہڑتال مرنے کی نیت سے نہیں ہے بلکہ صرف رعب ڈالنے کی غرض سے اور دکھاوے کے لئے ہے تو پھر وہ دھوکہ باز ہے اور اس صورت میں بھی وہ سچا مسلمان نہیں سمجھا جا سکتا۔پس کوئی سی صورت بھی لی جائے خواہ مرنے کی نیت ہو یا محض دھو کے اور دکھاوے کی نیت ہو ایسے شخص کا فعل صریحاً اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔اور پاکستان کے مسلمانوں کو ایسے غیر اسلامی فعل سے قطعی طور پر اجتناب کرنا چاہئے جو ملک کے بعض سر پھرے نو جوانوں نے اسلام کا رستہ چھوڑ کر گاندھی جی کی اتباع میں اختیار کر رکھا ہے۔پھر خود کشی خدا کی رحمت سے مایوسی بھی ہے اور مایوسی اسلام میں حرام ہے۔قرآن فرماتا ہے إِنَّهُ لَا يَائيسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُوْنَ - کہا جا سکتا ہے کہ جنگ کے موقع پر لڑنے والے مسلمان بھی تو اپنے آپ کو موت کے لئے پیش کرتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی کمان میں اپنے صحابہ کو کئی دفعہ بڑی بڑی تعداد کے کافروں کے سامنے لڑائی کے لئے کھڑا کیا اور ان لڑائیوں میں کئی صحابہ شہید بھی ہوئے تو اس صورت میں ایک مطالبہ کے منوانے کے لئے بھوک ہڑتال کرنے میں کیا ہرج ہو سکتا ہے؟ مگر یہ استدلال صریحاً ایک باطل اور بودا استدلال ہے اور قیاس مع الفارق سے زیادہ کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ایک نیک مقصد کے لئے جائز اور باقاعدہ دفاعی جنگ کی صورت میں اپنے آپ کو دشمن کے سامنے کھڑا کرنا بالکل دوسری چیز ہے۔ایک مقدس مقصد کے لئے جائز صورت میں امیر یا امام کے ساتھ ہو کر باقاعدہ صورت میں لڑنے والے انسان کی اصل نیست تو یہ ہوتی ہے کہ میں فتح پاؤں اور ہمارے مقصد میں کامیابی حاصل ہو مگر بھوک ہڑتال کرنے والا تو صرف مرنے کی نیت سے یا بصورت دیگر دھوکہ بازی کی غرض سے اس میدان میں قدم رکھتا ہے اور اُس کی غرض خود کشی یا دھوکہ بازی کے سوا کچھ نہیں ہوتی اور یہ دو نو صورتیں اسلام میں حرام ہیں پس فرق ظاہر ہے۔اندریں حالات یہ خاکسار پاکستان کے نوجوانوں (لڑکوں اور لڑکیوں) سے خدا کے نام پر اور رسول کے نام پر اور اسلام کے نام پر اپیل کرتا ہے کہ وہ اس غیر اسلامی فعل سے کلی طور پر اجتناب کریں۔بے شک