مضامین بشیر (جلد 4) — Page 359
مضامین بشیر جلد چہارم 359 شیر خوار بچہ تھا جو انہوں نے بڑی محبت اور احتیاط سے کپڑوں کے اندر لپیٹ رکھا تھا۔میں چونکہ جانتا تھا کہ چوہدری صاحب کے گھر کوئی اولاد نہیں۔میں نے ان سے دریافت کیا کہ یہ کس کا بچہ ہے؟ یا شاید خود انہوں نے بتایا کہ یہ خدا تعالیٰ نے ہمیں بخشا ہے۔اور پھر بڑے شوق سے اس کی یہ تفصیل بتائی کہ کچھ عرصہ ہوا میاں شریف احمد صاحب مرحوم ہمارے مکان میں آئے تھے اور مجھے یہ بشارت دی تھی کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ خدا تمہیں میری زندگی میں ہی بچہ دے گا اور میں نے ایک بچہ کپڑوں میں لپٹا ہوا تمہاری گود میں دیکھا ہے۔چنانچہ یہ وہی بچہ ہے جو ایک عزیز کا ہے اور خدا نے ہمیں عطا کیا ہے۔مجھے یہ بات سن کر اور ان کی خوشی دیکھ کر طبعاً بہت خوشی ہوئی اور مجھے دعا کی قبولیت کا ایک نیا پہلو نظر آیا کہ بعض اوقات اولاد کی بشارت اس رنگ میں بھی پوری ہوتی ہے کہ کوئی عزیز یا دوست اپنا بچہ ایک بے اولاد شخص کے سپر د کر دیتا ہے کہ لوتم اس بچے کو اپنے گھر میں رکھ کر پالو اور اپنے دل کی تسکین کا سامان کرو۔بے شک ایسا بچہ شرعی لحاظ سے دوسرے شخص کا بچہ نہیں بنتا مگر دل کی محبت میں جگہ پالیتا ہے اور ایک حد تک روحانی تسکین کا موجب بنتا ہے۔سو گو چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کے اپنی اولاد نہیں ہوئی مگر خدا نے میاں شریف احمد صاحب کی رویا کو اس طرح پورا کر دیا کہ کسی عزیز نے اپنا بچہ ان کے سپرد کر دیا جسے وہ اب بڑی محبت کے ساتھ پال رہے ہیں اور قلبی تسلی کے علاوہ ثواب بھی کما رہے ہیں۔یہ ایک ایسی ہی بات ہے جیسا کہ قرآن مجید نے حضرت موسی کے تعلق میں ذکر کیا ہے۔گو افسوس ہے کہ فرعون نے اس خدائی نعمت کی قدر نہیں کی بلکہ ناشکری کر کے خدائی عذاب کا نشانہ بن گیا۔میں ان خیالات میں محو تھا کہ اچانک مجھے اپنی اُس پرانی رویا کی طرف خیال چلا گیا جو ڈیڑھ سال قبل مجھے مولوی عبدالرحیم صاحب نیر مرحوم کی اہلیہ نے یاد دلائی تھی جس میں میں نے دیکھا تھا کہ عزیز مظفر احمد کے گھر شادی کے ہیں سال بعد بچہ پیدا ہوگا چنانچہ مجیب قدرت الہی ہے کہ جب عزیز مظفر احد کی شادی پر ہیں سال گزر گئے اور اکیسواں سال گزررہا تھا تو ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ایک بچی عزیزہ امتہ الجمیل سلمہا نے اپنا بچہ عزیز ظاہر احمد ، عزیز مظفر احمد کے سپر د کر دیا اور اب وہ ان کے گھر میں بچوں کی طرف تربیت پا رہا ہے۔اور اس طرح میری وہ رویا پوری ہوگئی کہ شادی کے بیس سال بعد عزیز مظفر احمد سلمہ کے گھر میں بچہ ہو گا۔یہ خدائی عجائبات کے غیر معمولی کرشمے ہیں جن کی حقیقت کو صرف وہی جانتا ہے۔اور میری دعا ہے کہ یہ بچہ بڑھے اور پھولے اور پچھلے اور عزیز مظفر احمد اور عزیزہ امتہ القیوم بیگم کے لیئے قلبی تسکین اور روحانی راحت کا موجب بنے۔