مضامین بشیر (جلد 4) — Page 358
مضامین بشیر جلد چہارم 358 خاکسار حسب توفیق سب کے لئے دعا کرتا ہے والا سر بیدِ اللَّهِ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّحِمِينَ وَ أَرْجُوا مِنَ اللَّهِ خَيْرًا۔میرا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ جماعت کے دو حصوں پر خصوصیت سے زیادہ ذمہ داری ہے اور پر جماعت میں نیک یا خدانخواستہ خراب اثر پیدا کرنے میں یہ دو حصے امکانی طور پر بہت نمایاں دخل رکھتے ہیں۔(اول) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے افراد جن میں مردوزن دونوں شامل ہیں۔( دوم ) مرکز میں رہنے والے احمدی خواہ وہ مرکزی کارکن ہیں یا عام پبلک۔ان دونوں طبقوں پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے اور ان دونوں کو اپنی دعاؤں میں خصوصیت سے یا د رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو راہ صواب پر قائم رکھے اور انہیں اسلام اور احمدیت کی تعلیم کا نمونہ بنائے اور ان کی طرف سے کوئی ایسی بات نہ ہو جو جماعت میں ٹھوکر یا فتنہ کا باعث بنے۔ہمارے خاندان میں سے بعض افراد بیمار ہیں اور بعض مختلف قسم کی پریشانیوں میں مبتلا ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جن سے (میری طرح) بعض اوقات کوئی کمزوری اور لغزش سرزد ہو جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ان سب کے لئے دعا کی جائے۔نیز یہ دعا بھی کی جائے کہ اللہ تعالیٰ ہماری اگلی نسلوں کی بھی حفاظت فرمائے اور انہیں اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں رکھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے اور پوتیاں اور نواسے اور نواسیاں اور ان کی اولا دسب خدا کی خادم بن کر رہے اور حسناتِ دارین سے حصہ پائے اور خدا کے حضور میں زندگی گزارے۔آمین ( محررہ 28 فروری 1962ء) (روزنامه الفضل 2 مارچ 1962ء) اللہ کے کام نیارے دعا کی قبولیت کا ایک نیا پہلو گزشتہ جنوری کے مہینہ میں جب میں لاہور میں زیر علاج تھا ایک دن چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ اور ان کی اہلیہ صاحبہ میری عیادت کے لئے تشریف لائے۔چوہدری صاحب کی اہلیہ کی گود میں ایک