مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 338 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 338

مضامین بشیر جلد چہارم 338 آندھیاں بھی چلیں۔ابتلاؤں کے طوفانوں نے بھی اپناز ور دکھایا۔مگر یہ خدا کا بندہ آگے ہی آگے قدم اٹھاتا چلا گیا اور بالآخر سب کچھ دیکھ کر اور سارے عجائبات قدرت کا نظارہ کر کے اپنے محبوب آقا کے قدموں میں پہنچ گیا۔اور یہ بات صرف حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے ساتھ ہی خاص نہیں تھی بلکہ جس نے بھی حضرت مسیح موعود کی صحیح صحبت اٹھائی اور خدائی نشانات دیکھے اور ایمان کی حلاوت کا حقیقی مزہ چکھا ( اور ایسے لوگ ہزاروں ہیں) وہ حق وصداقت کی ایک آہنی دیوار بن گیا جسے کوئی زلزلہ اپنی جگہ سے ہلانے اور گرانے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔کاش جماعت کی آئندہ نسلیں بھی حضرت مسیح موعوڈ کے صحابہ والا ورثہ پائیں اور خدا کو اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی رضا کے رستہ پر گامزن ہوں۔تاکہ صلحاء کے ایک لمبے سلسلہ کے ذریعہ حضرت مسیح موعود کا روحانی ورثہ قیامت تک چلتا چلا جائے۔اے کاش کہ ایسا ہی ہو۔17 انہی منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی کی ایک اور بڑی دلچسپ روایت ہے کہ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ میں مقیم تھے تو میں اور خان محمد خان صاحب مرحوم کپورتھلہ کے ایک غیر احمدی رئیس اور عالم دین ڈاکٹر صادق علی صاحب کو ساتھ لے کر لدھیانہ گئے۔کچھ وقت کے بعد حضرت مسیح موعود حسب طریق بالوں میں مہندی لگوانے لگے تو اس وقت ایک تعلیم یافتہ آریہ بھی حضور کی ملاقات کے لئے آگیا۔وہ ایم۔اے پاس تھا اور بہت تیز اور طرار تھا۔حضور ابھی مہندی لگوا ہی رہے تھے کہ اس آریہ نے اسلام کی تعلیم پر کوئی اعتراض کیا۔حضرت مسیح موعود نے ڈاکٹر صادق علی صاحب سے فرمایا کہ آپ ان صاحب سے ذرا گفتگو کریں تو میں اس عرصہ میں مہندی لگوالوں۔چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے اس آریہ کے اعتراض کا جواب دیا مگر اس نے ڈاکٹر صاحب کی تقریر کے جواب میں ایسی سجا سجا کر تقریر کی کہ ڈاکٹر صاحب عالم دین ہونے کے باوجود اس کے سامنے خاموش ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب یہ دیکھا تو غیرت میں آکر فور امہندی لگوانی بند کر دی اور اس آریہ سے مخاطب ہو کر اس کے اعتراض کا جواب دینا شروع کر دیا۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس وقت حضور کی تقریر دلائل کے لحاظ سے قریباً وہی تھی جو ڈاکٹر صادق علی صاحب نے کی تھی مگر حضوڑ کا انداز ایسا مؤثر اور اتنا دلنشین تھا اور حضور کی تقریر روحانی تاثیر میں اس طرح ڈوبی ہوئی تھی کہ وہ آریہ بے تاب ہو کر حضور کے سامنے سجدے میں گر گیا۔حضور نے اپنے ہاتھ سے اسے اٹھایا اور سجدہ کرنے سے منع کیا۔اس کے بعد یہ آریہ حضرت مسیح موعود کو دونوں ہاتھوں سے ہندوانہ طریق پر بڑے ادب کے ساتھ سلام کرتے ہوئے