مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 337 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 337

337 مضامین بشیر جلد چہارم صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود مجھے خواب میں اپنے ساتھ مدینہ منورہ لے گئے۔میں مزار مبارک کی جالیوں کے اندر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنا چاہتا تھا مگر معلوم ہوا کہ یہ جالی میرے قد سے زیادہ اونچی ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود نے میری دونوں بغلوں میں اپنے ہاتھوں کا سہارا دے کر مجھے اونچا کر دیا اور اس وقت میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی قبر کھلی ہوئی ہے اور آپ میرے سامنے اپنے پورے روحانی جمال کے ساتھ تشریف رکھتے ہیں۔ایک اور موقع پر بھی مجھے حضرت مسیح موعودؓ نے خواب میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کیا کہ حضور اس کی بیعت قبول فرمائیں۔چنانچہ میں نے حضرت مسیح موعود کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔بیعت کے بعد آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے مجھے از راہ نصیحت فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ۔تمام نیکیوں کو اختیار کرو اور تمام بدیوں سے بچ کر رہو (اصحاب احمد جلد 4 صفحہ 128 ) یہ وہ عظیم الشان روحانی تاثیر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک توجہ سے پیدا ہوئی اور اس کے نتیجہ میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے لئے رسول مقبول کی زیارت کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو گیا۔اور گویا حضرت مسیح موعود کے دل کی خواہش اور آنکھ کے اشارے نے منشی صاحب موصوف پر روحانی فیوض کا غیر معمولی دروازہ کھول دیا۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ۔آ تانکه خاک را بنظر کیمیا کنند آیا بود که گوشته چشمم بما کنند یعنی خدا کے پاک بندے ایسے ہوتے ہیں کہ اپنی ایک نظر سے مٹی کو سونا بنادیتے ہیں۔کاش کسی ایسے بزرگ کی اُچٹتی ہوئی نظر ہم پر بھی پڑ جائے۔وہ برگزیدہ لوگ جنہوں نے اس قسم کے نشانات مشاہدہ کئے اور اس قسم کے نظارے دیکھے خدا کے فضل سے کسی آزمائش اور کسی امتحان کے وقت لغزش نہیں کھا سکتے کیونکہ وہ بات جو دوسروں کے لئے محض شنید ہے وہ ان لوگوں کے لئے دید ہے۔حضرت مسیح موعود سے منشی ظفر احمد صاحب کی پہلی ملاقات غالبا 1883ء میں ہوئی اور فوت وہ اگست 1941 ء میں ہوئے۔یہ قریباً 60 سال کا زمانہ بنتا ہے۔اس طویل عرصہ میں مرحوم کا ہر قدم ایمان اور اخلاص اور محبت اور قربانی میں مسلسل بلندی کی طرف اٹھتا چلا گیا۔اور کبھی کوئی لغزش نہیں آئی حالانکہ اس زمانہ میں خدائی سنت کے مطابق احمد یہ جماعت پر مصائب کے زلزلے بھی آئے۔حوادث کی