مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 339 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 339

مضامین بشیر جلد چهارم حضور کی طرف پیٹھ پھیرنے کے بغیر پچھلے پاؤں پیچھے ہٹتے ہوئے باہر چلا گیا۔339 (اصحاب احمد جلد 4 صفحہ 94) یہ عجیب وغریب روایت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غیر معمولی علمی رعب اور آپ کی خدا دا د روحانی تاثیر کی بڑی دلچسپ مثال ہے۔ڈاکٹر صادق علی صاحب گو احمدی نہیں تھے مگر کپورتھلہ کے رئیس تھے اور علماء کے زمرہ میں شمار ہوتے تھے مگر جہاں وہ اس آریہ کا جواب سن کر ساکت ہو گئے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چند منٹ کی تقریر نے اس آریہ پر ایسا جادو کیا کہ وہ حضور کے سامنے بے تاب ہو کر سجدے میں گر گیا۔حالانکہ منشی ظفر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ حضور کی تقریر بحیثیت مجموعی انہی دلائل پر مبنی تھی جو ڈاکٹر صادق علی صاحب نے بیان کئے تھے۔مگر جہاں ڈاکٹر صادق علی صاحب کے الفاظ بے روح اور بے جان تھے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہر ہر لفظ اُس روحانی جذب واثر سے معمور تھا جو خدا کے ماموروں اور مرسلوں کو خاص طور پر عطا کیا جاتا ہے۔بیشک بے باکی سے انکار کرنے والے اور خدا کے رسولوں کے سامنے گستاخانہ طریق پر بڑھ بڑھ کر اعتراض کرنے والے بھی ہر زمانے میں ہوتے چلے آئے ہیں اور ہمارے آقا سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی ابو جہل اور امیہ اور متنبہ اور شیبہ وغیرہ جیسے بد باطنوں کی مثالیں پائی جاتی ہیں مگر جس شخص میں ذرا بھی سعادت کا مادہ ہو اور اس کے دل کی آنکھیں بالکل ہی اندھی نہ ہو چکی ہوں وہ علی قدر مراتب خدائی ماموروں اور مرسلوں کی روحانی تاثیرات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہ آریہ بھی اپنے پرانے قومی تعصبات کی وجہ سے مسلمان تو نہیں ہو سکا مگر اس کا دل مفتوح ہو کر حضرت مسیح موعود کے قدموں میں گر چکا تھا اور اس کے بعد اسے کبھی حضرت مسیح موعود کے سامنے آنے اور آنکھیں اونچی کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔اسی روایت میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی اُس وقت کی تقریر کا ڈاکٹر صادق علی صاحب پر بھی ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے اُسی دن حضور سے علیحدگی میں مل کر بیعت کی درخواست کی اور اصرار کیا کہ میری بیعت ضرور قبول فرمائی جائے مگر حضرت مسیح موعود نے یہ خیال کر کے کہ ڈاکٹر صاحب غالباً کسی وقتی جذبہ کے ماتحت ایسا کہہ رہے ہیں عذر کر دیا اور فرمایا کہ آپ جلدی نہ کریں اور اچھی طرح سوچ سمجھ لیں۔ایسا عذر حضرت مسیح موعود کی طرف سے رحیمانہ شفقت کی بناء پر ہوا کرتا تھا کیونکہ جب آپ یہ محسوس کرتے تھے کہ کوئی شخص جلدی میں پورے سوچ بچار کے بغیر بیعت کرنے لگا ہے تو آپ اس ڈر سے کہ وہ بعد میں بیعت کا عہد توڑ کر اور ارتداد کا رستہ اختیار کر کے خدائی عذاب کا نشانہ نہ بن جائے