مضامین بشیر (جلد 4) — Page 315
مضامین بشیر جلد چهارم 315 اور جولوگ میاں نظام دین کو عملاً پرے دھکیل کر حضرت مسیح موعود کے قریب بیٹھ گئے تھے وہ شرم سے کٹے جاتے تھے۔اصحاب احمد جلد 4 روایت نمبر (42) اس لطیف روایت سے تکبر اور نخوت کے خلاف اور دلداری اور مساوات اور اخوت اور غریب نوازی کے حق میں جو عظیم الشان سبق حاصل ہوتا ہے وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کمال دانائی سے یہ سبق اپنے قول سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے دیا جو قول کی نسبت ہمیشہ زیادہ اثر رکھتا ہے۔آپ کی غریب نواز آنکھ نے دیکھا کہ ایک خستہ حال دریدہ لباس مہمان کو آہستہ آہستہ نام نہاد ”بڑے لوگوں“ نے دانستہ یا نا دانستہ جوتیوں کی طرف دھکیل دیا ہے تو اس غیر اسلامی نظارے سے آپ کے دل کو سخت چوٹ لگی اور اس غریب شخص کے جذبات کا خیال کر کے آپ کا دل بے چین ہو گیا اور آپ نے فوراً سالن کا پیالہ اور روٹیاں اٹھا ئیں اور اس مہمان کو ساتھ لے کر قریب کے حجرے میں تشریف لے گئے اور وہاں اس کے ساتھ مل کر کھانا کھایا۔بے شک جس شخص کو خدا نے دنیا میں عزت دی ہے ہمارا فرض ہے کہ عام حالات میں اس کے ظاہری اکرام کا خیال رکھیں لیکن یہ اکرام ایسے رنگ میں نہیں ہونا چاہئے کہ جس میں کسی غریب شخص کی تذلیل یا دل شکنی کا پہلو پیدا ہو۔قرآن مجید کا یہ ارشاد کتنا پیارا اور مساوات کی تعلیم سے کتنا لبریز ہے کہ اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ انْقَكُمُ (سورہ حجرات آیت 14 ) یعنی اے مسلمانو! خدا کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز شخص وہی ہے جو زیادہ متقی اور زیادہ نیک ہے۔کاش ہماری جماعت اس ارشاد کو اپنا طرۂ امتیاز بنائے اور دنیا میں اخوت اور مساوات کا نمونہ قائم کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں اپنی امت کے غریبوں کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ اگر نیکی پر قائم ہوں گے تو امیروں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے ( ترمذی ابواب الزھد )۔یہ ایک استعارے کا کلام ہے جس سے ظاہری غریب اور دل کے غریب دونوں مراد ہیں اور پانچ سو سال سے ایک لمبا عرصہ مراد ہے جس کی اصل حقیقت کو صرف خدا جانتا ہے کیونکہ آخرت کی زندگی میں دنیا کے سالوں کے مطابق شمار نہیں ہوگا۔وہاں کے وقت کا پیمانہ دنیا کے وقت کے پیمانے سے بہت مختلف ہے۔مگر بہر حال اس حدیث سے یہ ثابت ہے کہ ہمارے آسمانی آقا کوغریب پروری اور غریب نوازی بہت مرغوب ہے اور حضرت مسیح موعود میں یہ صفت بہت نمایاں طور پر پائی جاتی تھی۔7% یہ مختصر سے دو واقعات جو میں نے اس جگہ بیان کئے ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جمالی صفات