مضامین بشیر (جلد 4) — Page 316
مضامین بشیر جلد چهارم 316 کی بڑی دلچسپ اور روشن مثالیں ہیں اور ایسی مثالوں سے آپ کی حیات طیبہ بھری پڑی ہے جن میں سے بعض گزشتہ سالوں کی تقریروں میں بھی بیان کی جاچکی ہیں۔لیکن جہاں آپ کی زندگی کا غالب پہلو جمالی تھا جو محبت اور نرمی اور شفقت اور نصیحت سے تعلق رکھتا تھا اور چاند کی طرح دلکش و دلنواز تھا وہاں کبھی کبھی جہاں ایمانی غیرت کا سوال پیدا ہوتا تھا آپ کی جلالی صفات بھی سورج کی تیز شعاعوں کی طرح بھڑک اٹھتی تھیں۔میں اس تعلق میں اس جگہ دو ایسے واقعات بیان کرتا ہوں جو بظاہر بہت چھوٹے ہیں مگر حقیقتا روحانی بمب شیل کا حکم رکھتے ہیں اور ان سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو خدائی الہام پر کس قدر بھروسہ اور خدائی نصرت پر کتنا اعتماد تھا۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم بیان کرتے ہیں کہ جن دنوں گورداسپور میں حضرت مسیح موعود کے خلاف مولوی کرم دین ساکن بھیں کی طرف سے ایک طولانی مقدمہ چل رہا تھا اور کھدر پوش ہندو مجسٹریٹ مقدمہ کولمبا کر کر کے اور قریب قریب کی تاریخیں ڈال ڈال کر حضرت مسیح موعودؓ کو تنگ کر رہا تھا اور افواہ گرم تھی کہ وہ بزعم خود پنڈت لیکھرام کے قتل کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔ایک دن اس نے بھری عدالت میں حضرت مسیح موعود سے سوال کیا کہ کیا خدا کی طرف سے آپ کو کوئی ایسا الہام ہوا ہے کہ إِنِّي مُهِينٌ مَّنْ أَرَادَ إِهَا نَتَكَ یعنی میں اس شخص کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت کا ارادہ کرتا ہے۔آپ نے بڑے وقار کے ساتھ فرمایا۔’ہاں یہ میرا الہام ہے اور خدا کا کلام۔اور خدا کا مجھ سے یہی وعدہ ہے کہ جو شخص مجھے ذلیل کرنے کا ارادہ کرے گا وہ خود ذلیل کیا جائے گا“ مجسٹریٹ نے کہا۔اگر میں آپ کی ہتک کروں تو پھر ؟“ آپ نے اُسی وقار کے ساتھ فرمایا۔خواہ کوئی کرے وہ خود ذلیل کیا جائے گا“ مجسٹریٹ نے آپ کو مرعوب کرنے کی غرض سے دو تین دفعہ یہی سوال دہرایا اور آپ ہر دفعہ جلالی انداز میں یہی جواب دیتے گئے کہ خواہ کوئی کرے“۔اس پر مجسٹریٹ حیران اور مرعوب ہو کر خاموش ہو گیا۔(اصحاب احمد جلد 4 روایت نمبر 49) دوست یا درکھیں کہ یہ اُس زمانہ کی بات ہے جب ملک میں انگریز کی حکومت تھی ہاں وہی انگریز جس کی خوشامد کا جماعت احمدیہ کو جھوٹا طعنہ دیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ مجسٹریٹ محض انگریزی حکومت کے کھونٹے پر ہی ناچتا تھا۔مگر باوجود اس کے جب ایمانی غیرت اور حق کی تائید کا سوال پیدا ہوا تو حضرت مسیح موعود سے بڑھ کر نگی تلوار کو ئی نہیں تھی۔آپ نے اپنی ایک نظم میں کیا خوب فرمایا ہے کہ۔