مضامین بشیر (جلد 4) — Page 314
مضامین بشیر جلد چهارم 314 اس واقعہ میں دلداری اور انکساری اور اکرام ضیف اور جذبات اخوت کا جو بلند معیار نظر آتا ہے اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔مگر میں اس موقع پر ربوہ کے افسر مہمان خانہ اور دیگر عملہ کو ضرور توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ اس لطیف روایت کو ہمیشہ اپنے لئے مشعل راہ بنائیں اور مرکز میں آنے والے مہمانوں کو خدائی مہمان سمجھ کر ان کے اکرام اور آرام کا انتہائی خیال رکھیں اور ان کی دلداری میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں اور مرکز کے مہمان خانہ کو ایک روحانی مکتب سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو اس مکتب کا خادم تصور کریں۔اور اگر کسی مہمان کی طرف سے کبھی کوئی تلخ بات بھی سننی پڑے تو اسے کامل صبر اور ضبط نفس کے ساتھ برداشت کریں اور اپنے ماتھے پر بل نہ آنے دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب تک زندہ رہے حضور نے لنگر خانہ کے انتظام کو ہمیشہ اپنے ہاتھ میں رکھا تا کہ انجمن کی طرف منتقل ہونے کے نتیجہ میں کسی خدائی مہمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اور مہمان خانہ کے دینی ماحول میں فرق نہ آنے پائے۔سواب یہ مہمان خانہ جماعت کے ہاتھ میں ایک مقدس امانت ہے اور خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ مرکزی کارکن اس امانت کو کس طرح ادا کرتے ہیں۔یہ امر خوشی کا موجب ہے کہ اب کچھ عرصہ سے مہمان خانہ کے انتظام میں کافی اصلاح ہے مگر نرخ بالا گن کہ ارزانی ہنوز 6۔دلداری اور غریب نوازی کا ایک اور واقعہ بھی بہت پیارا اور نہایت ایمان افروز ہے۔یہی منشی ظفر احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک قادیان کی اوپر کی چھت پر چند مہمانوں کے ساتھ کھانا کھانے کے انتظار میں تشریف فرما تھے۔اس وقت ایک احمدی دوست میاں نظام دین صاحب ساکن لدھیانہ جو بہت غریب آدمی تھے اور ان کے کپڑے بھی پھٹے پرانے تھے حضور سے چار پانچ آدمیوں کے فاصلہ پر بیٹھے تھے۔اتنے میں چند معزز مہمان آ کر حضور کے قریب بیٹھتے گئے اور ان کی وجہ سے ہر دفعہ میاں نظام دین کو پرے ہٹنا پڑاتی کہ وہ ہٹتے ہٹتے جوتیوں کی جگہ پر پہنچ گئے۔اتنے میں کھانا آیا تو حضور نے جو یہ سارا نظارہ دیکھ رہے تھے ایک سالن کا پیالہ اور کچھ روٹیاں ہاتھ میں اٹھا لیں اور میاں نظام دین سے مخاطب ہو کر فرمایا آؤ میاں نظام دین! ہم اور آپ اندر بیٹھ کر کھانا کھائیں“۔یہ فرما کر حضور مسجد کے ساتھ والی کوٹھڑی میں تشریف لے گئے اور حضور نے اور میاں نظام دین نے کوٹھڑی کے اندرا کٹھے بیٹھ کر ایک ہی پیالہ میں کھانا کھایا۔اس وقت میاں نظام دین خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے