مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 245 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 245

مضامین بشیر جلد چهارم 245 مذہب بھی اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ یونہی لوگوں کی گردنیں اڑاتے پھرو۔باقی رہے دو قسم کے جہاد یعنی تبلیغ کا جہاد اور تربیت کا جہاد۔سو وہ بے شک اسلام کی دائمی اور ہمیشہ قائم رہنے والی تعلیم کا ضروری حصہ ہیں اور عام حالات میں ہر الہی جماعت کو رتھ کے دو پہیوں کی طرح ان دونوں قسم کے جہادوں کی ہر وقت ضرورت ہوتی ہے۔مگر بعض اوقات مخصوص قومی یا ملکی حالات کے ماتحت یا خاص قسم کے اندرونی یا خارجی تقاضوں کے مطابق ان کے باہمی توازن میں فرق پڑ جاتا اور کمی بیشی ہو جاتی ہے۔یعنی بعض حالات میں تبلیغ پر زیادہ زور دینا پڑتا ہے اور بعض دوسری قسم کے حالات میں تربیت کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پیش آتی ہے خواہ یہ ضرورت اختیاری صورت میں ہو یا کہ مجبوری کی صورت میں جیسا کہ آج کل ملک کے اندرونی حالات کا تقاضا ہے۔بہر حال آج کل ہماری بڑی پرابلم جماعت کے نو جوانوں اور خصوصاً نسلی احمدیوں کی تربیت ہے تا کہ انہیں زمانہ کی شرر بار ہواؤں سے بچا کر اور مادیت کے زہریلے اثرات سے محفوظ رکھ کر اسلام اور احمدیت کی روح پر قائم رکھا جا سکے اور یہی میرے اس مضمون کا مرکزی نقطہ اور حقیقی تال ہے اور اسی کی طرف اس وقت اندرونِ ملک میں جماعت کی خاص توجہ مبذول ہونی چاہئے۔یہ کام کس طرح سرانجام دیا جائے ؟ اس کے لئے کسی لمبی چوڑی تلقین کی ضرورت نہیں۔قرآن وحدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اس معاملہ میں زریں ہدایات سے بھری پڑی ہیں۔اصل چیز جس کی ضرورت ہے وہ احساس اور توجہ ہے۔اگر جماعت میں نوجوانوں کی تربیت کا احساس پیدا ہو جائے اور وہ اس سوال کی عظیم الشان اہمیت کو سمجھ لے تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے قرب کی وجہ سے نیز خلافت جیسی الہی نعمت کے موجود ہونے کے نتیجہ میں ہمارے اندر ایمان و اخلاص کی زبر دست چنگاریاں موجود ہیں۔بس ذراسی ہوا دینے سے وہ بھڑک اٹھنے کے لئے تیار ہیں وَلَوْ لَا تَمْسَسْهُ نَارٌ۔پس دوستو اور عزیز و! خدا کے لئے اس طرف توجہ دو اور اپنی اولادوں کے مستقبل کی فکر کرو اور جماعت کے قدم کو نیچے کی طرف جانے سے بچاؤ اور ان کے اندر اسلام اور احمدیت کی ایسی شمع روشن کر دو جس سے ہر اگلی نسل کی شمع خود بخو دروشن ہوتی چلی جائے۔اور قرآن کے اس زبر دست انداز کو ہمیشہ یادرکھو کہ قوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَاراً اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس ڈرا دینے والے شعر کو بھی کبھی نہ بھولو کہ : ہم تو جس طرح بنے کام کئے جاتے ہیں آپ کے وقت میں سلسلہ بدنام نہ ہو