مضامین بشیر (جلد 4) — Page 244
مضامین بشیر جلد چهارم 244 مصر ہو ورنہ اسلام کا اصل بنیادی نظریہ پُر امن تبلیغ اور علمی اور روحانی ذرائع کے استعمال سے تعلق رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جونہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوات و سرایا سے کسی قدر مہلت پائی آپ نے اسلام کے بنیادی فریضہ کے پیش نظر مسلمانوں میں اعلان فرمایا کہ اب اس فراغت کو غنیمت جانتے ہوئے ہمیں جہادا کبر یعنی نفس کے جہاد اور علمی جہاد اور جماعتی تربیت کے جہاد میں مصروف ہو جانا چاہئے جو ہما را اصل جہاد ہے۔پس اے ہمارے دوستو اور بھائیو اور عزیزو! اس وقت ہمارے رستہ میں بھی بعض تبلیغی روکیں حائل ہیں بعض ملکوں میں تو ہمارا رستہ ملکی قانون کے ماتحت بالکل ہی بند ہے اور بعض میں رستہ تو کھلا ہے مگر توسیع کے کام میں بھاری مالی تنگی روک ہے اور ہم اپنے کام کو محدود رکھنے پر مجبور ہیں اور بعض میں قانونی روک تو شاید نہیں ہے مگر ملکی مصالح سد راہ ہو رہے ہیں۔ایسی صورت میں کمزور طبائع میں مذہبی جذ بہ کی کمی کا پیدا ہو جانا اور دینی ولولہ کا کمزور پڑ جانا ایک حد تک طبعی امر ہے۔اس کمی اور اس کمزوری کو دور کرنے کا وہی حکیمانہ نسخہ ہے جو ہمارے آقا (فدا نفسی) نے بیان فرمایا ہے یعنی اس صورت میں ہمیں جہاد اصغر (یعنی بے وقت جہاد ) سے جہاد اکبر ( یعنی وقت کے مناسب حال جہاد ) کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔یہ تو ظاہر ہے کہ جہاد کی موٹی اقسام یہ تین ہیں: (1) تلوار کا جہاد یعنی تلوار کے ذریعہ حملہ آور ہونے والے دشمن کا جو اسلام کو تلوار کے زور سے مٹانا چاہتا ہو تلوار سے مقابلہ کرنا۔(2) تبلیغ کا جہاد یعنی دلائل و براہین اور روحانی ذرائع سے اسلام کی اشاعت اور استحکام اور ترقی کا انتظام کرنا۔(3) تربیت کا جہاد یعنی مسلمانوں کو سچا مسلمان بنانے اور نو جوانوں کو اسلامی طریق کے مطابق تربیت دینے کا انتظام کرنا۔جہاں تک تلوار کے جہاد کا سوال ہے نہ تو اس وقت اس کے حالات موجود ہیں اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسیح موعود کے زمانہ میں اس کی اجازت ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحیح بخاری میں مسیح موعود کے نزول کے ذکر کے تعلق میں صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ يَضَعُ الْحَرْبَ یعنی جب میری امت کا مسیح آئے گا تو وہ تلوار کے جہاد کو ملتوی کر دے گا کیونکہ اس کی ضرورت نہیں ہوگی۔عقلاً بھی ظاہر ہے کہ تلوار کی ضرورت صرف تلوار کے مقابلہ پر ہی پڑ سکتی ہے ورنہ اسلام تو درکنار کوئی معقول