مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 243 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 243

مضامین بشیر جلد چهارم 243 ماحول اور وقت کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ کم و بیش ہوتی رہتی ہے اور چوکس مومنوں کا فرض ہے کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق پیش آمدہ مسائل کی طرف توجہ دیں اور آنکھیں بند کر کے صرف ایک بات کی طرف ہی جھکے نہ رہیں۔اس طرح مختلف حالات میں جہاد کبر اور جہادِ اصغر کی تعریف بدلتی رہے گی۔کسی وقت جب کوئی ظالم دشمن اسلام کو تلوار کے زور سے مٹانے کے لئے اٹھے گا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا تو اس وقت جہاد بالسیف کے ذریعہ اپنا دفاع کرنا اور ترقی کا راستہ کھولنا جہاد اکبر ہوگا۔لیکن اگر دشمن علمی اعتراضوں کے ذریعہ اسلام پر حملہ آور ہو گا تو علمی تبلیغ کے ذریعہ اسلام کی فوقیت ثابت کرنا اور اسلامی لٹریچر کی اشاعت کرنا اور مالی امداد کے ذریعہ اسلام کی مضبوطی کا انتظام کرنا جہاد اکبر بن جائے گا اور بعض اوقات جب قوم اسلامی تربیت کو کھو کر تنزل کے گڑھے میں گر رہی ہوگی تو ایسے وقت میں مسلمان نو جوانوں کو عمدہ اخلاقی اور روحانی تربیت کے ذریعہ اوپر اٹھانا جہادا کبر ہو گا اور باقی جہاد جہاد اصغر کا رنگ اختیار کر لیں گے اور یہی وہ نفسیاتی نکتہ ہے جس کی طرف ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر والے زریں ارشاد میں توجہ دلائی ہے۔یعنی یہ کہ وہی جہادا کبر ہے جو وقت کے تقاضے کے مطابق کیا جائے۔علاوہ ازیں حضور کے ارشاد میں یہ یمنی اشارہ بھی ہے کہ مسلمانوں کو کسی وقت بھی بے کار اور ست ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ وقت اور حالات کے تقاضے کے مطابق بہر حال کوئی نہ کوئی دینی جہاد جاری رکھنا چاہئے کیونکہ قوموں کی باہمی دوڑ میں جو قوم بھی سست ہوگی اور رُکے گی وہ فورا گر کر دوسروں کے پاؤں کے نیچے روندی جائے گی۔یہ خداک از لی اور اٹل قانون ہے۔وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلاً - دوسرا متقابل نکتہ، بہت بڑا نکتہ، بڑا عظیم الشان نکتہ قوموں میں دائمی زندگی پیدا کرنے والا نکتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) کے اس ارشاد میں کہ ”اب ہم چھوٹے جہاد سے فارغ ہو کر بڑے جہاد کی طرف لوٹ رہے ہیں یہ ہے کہ آپ نے نسبتی لحاظ سے نہیں بلکہ واقعی اور حقیقتا نفس کے جہاد اور تربیت والے جہاد کو تلوار کے جہاد سے افضل قرار دیا ہے اور اسلامی تعلیمات کا گہرا مطالعہ کرنے والے لوگ جانتے ہیں کہ یہی درست ہے۔کیونکہ اسلام مذہب کی اشاعت میں ہرگز ہرگز جبر کی تعلیم نہیں دیتا جیسا کہ قرآن صاف الفاظ میں فرماتا ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ - اُدْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ۔یعنی دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں بلکہ اے رسول ! تمہارا کام صرف یہ ہے کہ خدا کے دین کی طرف حکمت اور پند و نصیحت کے طریق پر بلاؤ۔تلوار کے استعمال کی اجازت صرف مظلوم ہونے کی حالت میں دی گئی ہے بلکہ دشمن تلوار کے زور سے اسلام کو مٹانے کا اقدام کرے اور بر بادی پر