مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 242 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 242

مضامین بشیر جلد چهارم مرا درد ایست اندر دل اگر گوئم زباں سوزد و گردم در کشم ترسم که مغز استخواں سوزد 242 اگر یہ روکیں دور ہو جائیں تو اس وقت حالات ایسے ہیں کہ خدا کے فضل سے قلیل عرصہ میں اسلام اور صداقت کے حق میں بھاری تغیر پیدا کیا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک ضروری لازمہ کے طور پر ہمارے نو جوانوں میں اور نسلی احمدیوں میں بھی زندگی کی نئی روح پیدا ہو سکتی ہے۔وَمَا ذَالِكَ عَلَى اللَّـهِ بعَزِيزِ۔تاریخ عالم کا یہ ایک ازلی مشاہدہ ہے کہ جب کسی قوم کا خارجی محاذ کمزور پڑ جاتا ہے تو وہ اندرونی خلفشار کا شکار ہونا شروع ہو جاتی ہے۔نیکی کی روح میں انحطاط، قربانی کے جذبہ میں کمی ، باہمی اختلافات، عملی کمزوریاں ، اعتراض کرنے میں جلد بازی وغیرہ وغیرہ کئی قسم کی اخلاقی اور روحانی بیماریاں جماعتی معاشرہ میں ابھر نے لگ جاتی ہیں۔مگر قربان جائیے اپنے آقاصلی اللہ علیہ وسلم پر کہ آپ نے اپنی امت کو کسی حالت میں بھی مناسب نگرانی اور مناسب علاج کے بغیر نہیں چھوڑا اور ہر عارضہ کے لئے حکیمانہ شفا اور حکیمانہ ماحول مہیا فرمایا ہے۔چنانچہ جب آپ کو ایک وقت اپنے غزوات کے ہجوم کے دوران میں کچھ عرصہ کے لئے مہلت میسر آئی اور آپ نے محسوس کیا کہ کہیں اوپر تلے کے غزوات اور سرایا کی غیر معمولی گہما گہمی سے وقتی فراغت پا کر صحابہ کی جماعت ایک گونه بیکار اور ست ہو کر نہ بیٹھ جائے تو آپ نے اس وقت کمال حکمت سے صحابہ کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ: رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْاكْبَرِ یعنی اب ہم چھوٹے جہاد ( مراد تلوار کے جہاد) سے فارغ ہو کر بڑے جہاد ( مراد اخلاقی اور روحانی تربیت کے جہاد ) کی طرف لوٹ رہے ہیں اللہ اللہ ! یہ کس شان کا کلام تھا جو آج سے چودہ سو سال پہلے عرب کے اس امی نبی کے منہ سے نکلا جس کی حکمت کے سامنے آج کی ترقی یافتہ دنیا کا سارا فلسفہ گرد ہے۔تلوار کے جہاد سے واپس لوٹتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اب ہمارے لئے چھوٹے جہاد سے فارغ ہو کر بڑے جہاد میں مصروف ہونے کا وقت ہے جو نفس کا جہاد اور جماعتی تربیت کا جہاد اور قومی تنظیم کا جہاد ہے۔اس موقع پر جماعتی تربیت کے سوال کو بڑا جہاد قرار دینے میں دو عظیم الشان نفسیاتی نکتے مضمر ہیں۔اول اس میں علم النفس کے اس لطیف اصول کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ کسی سوال کی اہمیت صرف ذاتی ہی نہیں ہوا کرتی بلکہ اضافی اور نسبتی بھی ہوا کرتی ہے جو