مضامین بشیر (جلد 4) — Page 224
مضامین بشیر جلد چهارم 224 کہ اگر کسی حاجی کے سر میں تکلیف ہو اور اس کے لئے سرمنڈوانا ممکن نہ ہو تو اس کے لئے اسلام میں روزہ یا صدقہ کی صورت میں بدل مقرر کیا گیا ہے (سورۃ بقرہ آیت 197 ) اور اس سے بھی یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ شریعت نے بہر حال بدل کا اصول تسلیم کیا ہے تو کیوں نہ موجودہ زمانہ کے تقاضا کے مطابق عید کی قربانیوں کا بدل اختیار کر لیا جائے۔مگر یا درکھنا چاہئے کہ یہ استدلال ایک دھو کے پر مبنی ہے کیونکہ یہ احکام جن کی ذیل میں یہ بدل والے احکام دیئے گئے ہیں حج سے تعلق رکھتے ہیں نہ کہ غیر حاجیوں کی قربانی یعنی أَضْحِيَّة سے۔اور ایک امر سے تعلق رکھنے والا حکم بلا دلیل دوسرے حکم پر چسپاں کرنا ہرگز جائز نہیں۔علاوہ ازیں یہ احکام خود اس بات کی دلیل ہیں کہ غیر حاجیوں کی قربانی کا کوئی بدل نہیں ورنہ جس طرح بعض صورتوں میں ذی یعنی حج کی قربانی کے لئے بدل رکھا گیا ہے اسی طرح أَضُحية یعنی غیر حاجیوں کی قربانی کا بدل بھی مقرر کیا جا سکتا تھا مگر خدا کی طرف سے حاجیوں کی قربانی کا بدل مقرر کیا جانا اور غیر حاجیوں کی قربانی کا کوئی بدل مقرر نہ کیا جانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس معاملہ میں کسی بدل کا سوال نہیں۔دراصل بات یہ ہے کہ چونکہ حج کی بعض صورتوں میں قربانی ضروری رکھی گئی ہے اور حج خود اسلام کے اہم ترین ارکان میں سے ہے اس لئے لازماً حج میں قربانی کی طاقت نہ رکھنے والوں کے لئے قربانی کا کفارہ یعنی بدل مقرر کیا گیا ہے تا کہ غیر مستطیع حاجی یہ کفارہ ادا کر کے اپنے فرض کے معاملہ میں سرخرو ہو جائیں۔مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے غیر حاجیوں پر قربانی فرض نہیں ہے بلکہ صرف واجب یا سنتِ مؤکدہ ہے اس لئے اس کا بدل نہیں رکھا گیا۔یہ بات ایسی ظاہر وعیاں ہے کہ اس میں کسی عقلمند انسان کے لئے شبہ کی گنجائش نہیں۔جانوروں کی قلت کے خطرہ کا سوال ایک آخری سوال کا جواب دینا ضروری ہے اور وہ یہ کہ آج کل عید الاضحیٰ کی قربانی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ملک میں گوشت کھانے والوں کی کثرت اور گوشت کے جانوروں کی نسبتاً قلت ہو گئی ہے اس لئے ملک کے اقتصادی نظام کے ماتحت جانوروں کو بے دریغ ذبح کرنے سے بچانا ضروری ہے ورنہ خطرہ ہے کہ کل کو نہ صرف گوشت کا قحط بلکہ زمیندارہ استعمال کے جانوروں کی قلت بھی ملک کی خوراک کے سوال کو نازک صورت نہ دے دے۔یہ سوال بظاہراہم اور قابلِ غور