مضامین بشیر (جلد 4) — Page 225
مضامین بشیر جلد چهارم 225 نظر آتا ہے کیونکہ اس میں شبہ نہیں کہ ایک تو ملکی تقسیم کے فسادات کے دوران میں کئی جانور ضائع ہو گئے اور وسرے مغربی پاکستان میں خالص مسلمان آبادی کے بڑھ جانے سے گوشت کا خرچ بھی لازماً پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے موجودہ حالات میں ایک حد تک جانوروں کی قلت کا اندیشہ ضرور سمجھا جا سکتا ہے۔لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ اندیشہ اتنا حقیقی نہیں کہ قطع نظر دینی مسئلہ کے اس کی وجہ سے قربانیوں کو روکنے کا خیال پیدا ہو کیونکہ اول تو اگر غور سے دیکھا جائے تو قربانی کرنے والے لوگ غالباً ساری آبادی کے لحاظ سے صرف نصف فیصدی ہوتے ہیں۔مثلاً لائکپور (فیصل آباد ) پاکستان کے بڑے شہروں میں سے ایک شہر ہے اور وہ ہے بھی کافی متمول شہر جس میں بڑے بڑے کارخانے پائے جاتے ہیں بلکہ لائکپور (فیصل آباد) کا سارا ضلع ہی اپنی زرخیز اراضی کی وجہ سے سب سے زیادہ متمول ضلع سمجھا جاتا ہے۔اب اس کے اعداد و شمار سے پتہ لگا ہے کہ گزشتہ (یعنی 1959ء کی ) عید الاضحی کے تین دنوں میں لائکپور (فیصل آباد ) شہر میں (بشمول مضافات ) سترہ ہزار (17000 ) جانور ذبح ہوئے ہیں اور کل ضلع لائلپور (فیصل آباد) میں بشمول شہر ستائیس ہزار (27000) قربانیاں ہوئیں۔یعنی ضلع بھر میں شہر کی نسبت صرف دس ہزار قربانیاں زیادہ ہیں۔اب اگر ضلع لائلپور (فیصل آباد ) کی آبادی پھپیں چھبیس لاکھ سمجھی جائے تو یہ قریباً ایک فیصدی یا اس سے کچھ زیادہ شرح بنتی ہے اور خالص دیہاتی آبادی کی شرح اگر سارے ملک پر پھیلا کر دیکھی جائے تو یقیناً نصف فیصدی بلکہ اس سے بھی کم ہوگی کیونکہ دیہات میں عموماً بہت کم قربانی ہوتی ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ پاکستان کی آبادی کا نوے فیصد حصہ دیہات میں آباد ہے۔ان اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ اگر پاکستان میں نسل حیوانی کی افزائش کا خاطر خواہ انتظام ہو جیسا کہ دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے تو گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں۔ہاں اگر صرف خرچ ہی خرچ ہو اور آمد بڑھانے کی کوئی صورت نہ کی جائے تو ظاہر ہے کہ پھر قارون کا خزانہ بھی مکلفی نہیں ہوسکتا۔اور پھر بعض احادیث میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ ایک گھر میں ایک سے زیادہ قربانی والے افراد موجود ہوں تو باوجود طاقت رکھنے والے افراد کی تعداد زیادہ ہونے کے سارے گھر کی طرف سے صرف ایک قربانی کافی ہو جاتی ہے۔چنانچہ حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامِ أَضْحِيَةٌ (ابوداؤدکتاب الضحايا، باب ماجاء فی ایجاب الاضاحی) یعنی اے لوگو! ہر ذی استطاعت گھر کے لئے ایک سال میں ایک جانور کی قربانی کافی ہے۔