مضامین بشیر (جلد 4) — Page 223
مضامین بشیر جلد چهارم 223 علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی اس کا طریق موجود اور معلوم تھا اور خود قرآن شریف میں بھی جا بجا اس قسم کی امداد کی تحریک پائی جاتی ہے۔تو جب یہ طریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بے شمار موقعوں پر استعمال بھی فرمایا تو ہر عقل مند انسان آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ جب حضرت شارع علیہ الصلوۃ والسلام بلکہ خود ذات باری تعالیٰ نے عید الاضحی کے موقع پر نقد روپے یا غلہ وغیرہ (جو آسانی سے نقدی میں منتقل کیا جاسکتا ہے) کی تقسیم کی بجائے قربانی کا نظام قائم کر کے قربانیوں کی تاکید فرمائی (حالانکہ ان کے سامنے نقد روپے اور غلہ وغیرہ کی تقسیم کا طریق موجود تھا ) تو لامحالہ اس طریق کے اختیار کرنے میں کوئی خاص مصلحت سمجھی جائے گی ورنہ ایک زیادہ معروف اور زیادہ آسان طریق کو چھوڑ کر قربانی کا طریق کیوں اختیار کیا جاتا؟ پس اگر غور کیا جائے تو دراصل یہ فرق اور یہ امتیاز ہی اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ قربانی کا نظام مقرر کرنے میں خدا اور اس کے مقدس رسول کے سامنے کوئی خاص غرض مقصود تھی اور پھر یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ خدا کے سامنے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے حالات تھے اور اسے نعوذ باللہ موجودہ زمانہ کے حالات پر اطلاع نہیں تھی۔کیونکہ خدا عالم الغیب ہے اور یقینا کسی زمانہ کا کوئی امر بھی اس سے پوشیدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔یہ استدلال اور بھی زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دوسری عید یعنی عید الفطر کے موقع پر فطرانہ کی صورت میں غلہ یا نقد روپے کی تقسیم کا نظام قائم فرمایا ہے تو جب آپ تعید کے موقع پر غلہ یا نقدی کا نظام جاری فرما سکتے تھے تو آپ کے لئے اس بات میں کیا روک تھی کہ عید الاضحی کے موقع پر بھی یہی نظام جاری فرما دیتے ؟ پس دونوں عیدوں کے موقع پر انفاق فی سبیل اللہ کے طریق میں ایک بین اور نمایاں فرق قائم کرنا اس بات کی قطعی اور یقینی دلیل ہے کہ خواہ ہمیں سمجھ آئے یا نہ آئے یہ امتیاز بہر حال کسی خاص مصلحت کی بناء پر قائم کیا گیا ہے۔وَهُوَ الْمُرَادُ فَافُهُمْ وَ تَدَبَّرُ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينُ - کیا قربانیوں کا کوئی بدل بھی اختیار کیا جا سکتا ہے؟ زمانہ حال کے بعض علماء نے گوہ یقیناً بہت قلیل تعداد میں ہیں لکھا ہے کہ شریعت نے حج کے موقع پر هدى ( یہ یادر ہے کہ ھدی کی اصطلاح سے وہ قربانی مراد ہے جو حاجی لوگ حرم میں کرتے ہیں اور اس کے بالمقابل أضحية غیر حاجیوں کی قربانی کا نام ہے جو وہ اپنے گھروں میں کرتے ہیں ) کی طاقت نہ رکھنے کی صورت میں اسلام نے روزوں کا کفارہ یعنی بدل مقرر کیا ہے (سورۃ بقرہ آیت 197 ) جس کی بناء پر کہا جاتا ہے کہ اسی اصول پر بعض حالات میں عید کی قربانی کا بدل بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح کہا جاتا ہے