مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 194 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 194

مضامین بشیر جلد چہارم 194 کثرت کے ذریعہ خدا گویازمین کی طرف زیادہ سے زیادہ نیچے اتر تا آتا ہے اور عشق و محبت الہی کی وہ بھٹی جو رمضان کے شروع میں سلگائی جاتی ہے زیادہ سے زیادہ دیکنے لگتی ہے۔اسی لئے رمضان کا آخری عشرہ خاص برکات رکھتا ہے اور اسی لئے وہ اعتکاف یعنی دنیا سے وقتی اور جزوی انقطاع اور تبتل الی اللہ کے لئے مخصوص کیا گیا ہے اور اسی لئے اس عشرہ میں لیلۃ القدر کی رات بھی رکھی گئی ہے جس کے متعلق قرآن فرماتا ہے کہ وہ اپنی برکات میں ہزار مہینوں سے بہتر ہے پس : بکوشید اے جواناں تابدیں قوت شود پیدا بہار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا ( محرره 13 فروری 1961 ء ) روزنامه الفضل ربوه 15 فروری 1961ء) 7 رمضان تو ربوہ کا رمضان ہے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپنی حرم محترم ام مظفر احمد صاحب کی عیادت کے لئے رمضان کے دنوں میں لا ہور تشریف لے گئے جہاں رمضان کا وہ حظ نہ آیا جور بوہ میں آتا ہے اس کا ذکر آپ نے اپنی حرم محترم کی علالت کی اطلاع بھجواتے ہوئے یوں کیا۔دوسری طرف یہ عاجز بھی مرکز سلسلہ کی رمضان کی برکات سے محروم ہو رہا ہے۔یا روزہ رکھنے سے تو میں پہلے ہی اپنی علالت کی وجہ سے تین چار سال سے معذور ہو چکا ہوں اور فدیہ ادا کر کے خدا کے حق کی خانہ پری کرتا ہوں مگر رمضان کی دیگر برکات سے محرومی بھی بڑی محرومی ہے اور گو ہمارا رحیم و کریم آسمانی آقا انسان کی معذوریوں اور مجبوریوں کو دیکھتا ہے مگر نیکی کے مواقع سے محرومی پھر بھی محرومی ہے۔لیکن عاجز انسان خدائی تقدیر کے سامنے بالکل بے بس ہو کر رہ جاتا ہے۔اس سال مجھے یہ بھی تجربہ ہوا ہے کہ رمضان تو دراصل ربوہ ہی کا رمضان ہے جہاں روزوں سے محروم انسان کے اوقات بھی عموماً نیکیوں سے معمور رہتے ہیں اور مرکز کی فضاء نوافل اور تراویح اور تہجد اور درسِ قرآن اور تلاوت کلام پاک کی صداؤں سے گونجتی ہے اور روز مرہ کی زندگی میں ایک نمایاں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔جسے نہ صرف دل کی آنکھ بلکہ ظاہر کی آنکھ بھی کھلے طور پر دیکھتی اور محسوس کرتی ہے۔مگر بیر ونجات میں