مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 193 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 193

مضامین بشیر جلد چهارم 193 انسان کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے اس کے مزید قریب ہونے کی شان کا کیا کہنا ہے۔مگر یا درکھو کہ جو دعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر درود بھیجنے سے خالی ہے وہ کوئی دعا نہیں۔جو دعا اسلام اور احمدیت کی ترقی کی تمنا سے خالی ہے وہ کوئی دعا نہیں۔جو دعا اپنی اولا د اور اپنے اہل وعیال کو نیکی کے رستہ پر قدم زن ہونے کی آرزو سے خالی ہے وہ کوئی دعا نہیں۔بے شک خدا سے اپنے لئے اور اپنے دوستوں اور عزیزوں کے لئے ہر نعمت مانگوحتی کہ اگر تمہاری جوتی کا تسمہ ٹوٹتا ہے تو وہ بھی خدا سے مانگومگر یہ تین دعا ئیں کبھی نہ بھولو کیونکہ یہ دعائیں مسلمانوں کی قومی زندگی اور اسلام کے احیاء اور نشاۃ ثانیہ کی جان ہیں۔(4) پھر ایک برکت رمضان کے مہینہ میں قرآن مجید کی تلاوت کی زیادہ توفیق ملنے سے تعلق رکھتی ہے۔یوں تو ہر سچا مسلمان قرآن مجید پڑھتا ہے مگر رمضان میں اس کی شان بالکل نرالا رنگ اختیار کر لیتی ہے کیونکہ اس مہینہ میں گویا ہر گھر اور ہر در سے تلاوت کی آواز گونجتی ہے۔قرآن وہ عظیم الشان خزانہ ہے جس کے متعلق ہمارے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس محبت کے ساتھ فرماتے ہیں کہ : دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے پس دوست اس کعبہ کو بھی نہ بھولیں۔(5) پھر ایک برکت رمضان کے مہینہ کی صدقہ و خیرات کی کثرت ہے۔اسلام نے مسلمانوں کو اپنی مشکلات سے نجات پانے کے لئے اور اپنے کمزور بھائیوں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے صدقہ اور امدادِ غرباء کی بے حد تاکید فرمائی ہے اور وہ رمضان کے متعلق تو خصوصیت سے حدیث میں آتا ہے کہ رمضان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ صدقہ و خیرات میں اس طرح چلتا تھا کہ گویا وہ ایک تیز آندھی ہے جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی۔یہ وہ پانچ عظیم الشان برکتیں ہیں جو رمضان کے مہینہ کے ساتھ خاص ہیں اور ہمارے سب بہنوں اور بھائیوں کو ان پانچوں برکتوں سے رمضان میں پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ ہمارا دین اور ہماری جماعت اور ہمارے افراد کی ترقی سے اسلام کو استحکام حاصل ہو اور محمدیوں کا قدم ایک بلند مینار پر قائم ہو جائے۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ رمضان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ جوں جوں رمضان کا مہینہ گزرتا ہے اس کی برکتوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے کیونکہ مومنوں کی مخلصانہ عبادتوں اور دعاؤں اور صدقہ و خیرات کی