مضامین بشیر (جلد 4) — Page 192
مضامین بشیر جلد چهارم 192 ہی چند دن کے اندر اندر اپنے آسمانی آقا کے حضور حاضر ہو گئے۔ان کی زندگی حقیقتا قابل رشک تھی۔بے حد شریف، بے نفس، تہجد گزار ، دعا گو، اور قرآن خوان انسان تھے۔ان کے سب قدیم وجدید دوست ان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔غالباً تریسٹھ سال کی عمر تھی اور یہ وہی عمر ہے جس میں ہمارے محبوب آقا حضرت سرور کا ئنا تصلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کے وصال کا پیغام آیا تھا۔وَ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے اور ان کے بیوی بچگان کا دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔( محررہ یکم فروری 1961 ء ) روزنامه الفضل ربوه 7 فروری 1961ء) 6 رمضان کی خاص برکات رمضان کا مہینہ چند دنوں میں شروع ہونے والا ہے۔یہ ایک بہت ہی مبارک مہینہ ہے جس میں کئی مقسم کی برکات اور اصلاح نفس اور روحانی تربیت اور ترقی کے مواقع رکھے گئے ہیں۔یہ برکات مختصر طور پر حسب ذیل ہیں : (1) نماز جو سب عبادتوں سے مسلمہ طور پر افضل ہے وہ رمضان کے مہینہ میں تہجد اور تراویح اور نوافل کے ذریعہ کئی درجہ وسیع تر اور ارفع تر ہو جاتی ہے۔اس طرح رمضان کا مہینہ گویا عروسِ صلواۃ کے سنگھار کا زمانہ ہے جب کہ یہ اپنے آرائشِ جمال اور زیب وزینت کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔(2) پھر خود روزه یعنی سحری سے لے کر غروب آفتاب تک خدا کے لئے بھوک اور پیاس اور ازدواجی تعلقات سے اجتناب کرنا اپنے اندر غیر معمولی برکات اور تربیت نفس کا سامان رکھتا اور قربانی کا سبق سکھاتا ہے اور اس مہینہ میں اپنے غریب اور نادار بھائیوں کی غربت اور تکلیف کا احساس پیدا کرنے کا لطیف ذریعہ بھی موجود ہے۔(3) پھر دعا جو دراصل نماز کا اندرونی مغز اور خالق ومخلوق کے باہمی رشتہ کی سب سے بڑی کڑی ہے اس کا بھی رمضان کے مہینہ میں غیر معمولی موقع میسر آتا ہے۔کیونکہ یہ مہینہ دعاؤں کی قبولیت کا خاص مہینہ ہے جس کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ میں اس مہینہ میں اپنے بندوں کے زیادہ قریب ہو جاتا ہوں۔جو ہستی پہلے ہی